شاعری کرنے کا آسان طریقہ ”عروض کا متبادل “۔
پیش لفظ
علم عروض ایک ایسا ایسا علم ہے جس کو شاعری کرنے کے شائقین حضرات دن رات ایک کر کے سیکھتے ہیں جو کہ ایک اچھی بات بھی ہے مگر دوسری طرف دیکھا جائے تو شاعری کوئی مقصد حیات بھی تو نہیں ہے کہ اس کے لیے ہم اتنی تواناٸی صرف کر رہے ہیں ۔ ہاں ایک فن ضرور ہے انہی خیالات کو مدنظر رکھ ہوئے ایک کوشش آپ حضرات کے سامنے ہے جس میں بتانامقصود ہے کہ شاعری میں اوزان کو متبادل طریقے سے کیسے برابر کیا جا سکتا ہے ۔امید ہے کہ یہ کوشش نئے لکھنے والوں کے لئے اور خاص کر دیسی زبانوں میں لکھنے والوں کے لیے کارگر ثابت ہوگی۔ میں نے اپنی ذات سے تو یہ ارادہ کیا ہے کہ میں آئندہ اسی طریقے کے تحت اپنے اپنے اشعار میں اوزان کو برابر کروں گا۔
عرض کرتا چلوں کہ ان اوراق کو لکھنے کے بعد میں نے ان کو اپنے بعض ساتھیوں کی طرف بطورِ پی ۔ڈی۔ ایف بیجھا۔ ان میں سے بعض نے تو خاموشی اختیار کی اور بعض نے اپنے خیالات کا اظہار اس طرح سے کیا ۔
”wow very nice
کیا کہنا بہت ہی عمدہ، خوش رہیں۔ بہترین طریقہ آپ نے بتایا ہے ۔ اس طریقےسے شاعری کرنا بہت ہی آسان ہے۔ نوجوانوں کو چاہٸے کہ وہ اس طریقے کو اپناٸیں اور اپنی باقی مصروفيات کے ساتھ ساتھ شاعری کے شغل کو بھی برقرار رکھیں۔”شمس الدین شاز“
ماشاءاللہ بہت ہی بہترین کام انجام دیا ہے آپ نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلامت رہیں۔”صابر ندیم“
اب یہ میری کوشش شعرأ اور ناقدین کے سامنے ہے وہ اس پر کیا راٸے قاٸیم کریں گے یہ ان کا کام ہے۔ البتہ الحمد للّہ ثم الحمد للّہ ایک پیچیدہ کام کو آسان بنانے کی کوشش کی ہے۔
آپ سے دعاٶں کی درخواست ہے۔
ناظم پونچھی
مصنف کتاب ہذا تقریظ
اہل زباں کہتے ہیں ذوق پیدہ کر کے شوق پالیا جاتا ہے، شوق انسانی ذہنوں کی زمین پر جنم لینے کے بعد نشو نما سے گزرتا ہے۔ شوق جب بچپن کا زمانہ گزار کر لڑکپن کی کچی کچی کونپلیں پکڑ کر ریشم کا رس دار احساس پانے کی کوشش کرتا ہے۔ تبھی روک نامی تاروں کا ایک جھال بنتا جاتا ہے،بس اسی جھال میں کبھی ذوق تو کبھی شوق پھنستا اور الجھتا جوانی کی دہلیز پر اپنا قدم رکھتا ہے۔ اگر ایسا کہا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا کہ ذوقِ شاعری بھی ایک نایاب فنِ سخن ہے۔ یہ بھی ایک فطرتی عمل اور خدا داد نعمت ہے۔ طابع الشعر کے لیے یہ بھی لازم نہیں کے اُس کا تعلق اجداداً شعرأ سے ہو اور یہ بھی ضروری نہیں کہ ایک شاعر ہونے کے علم کے اعتبار سے مخصوص درجہ رکھتا ہو۔ تاریخ کے اوراق کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی تحریکیں ایسی بھی چلائی گئیں تھیں جو شاعری کے جزوی یا کلی طور سراسر خلاف تھیں۔کچھ ایسی بھی تحریکیں چلیں جن کے سربراہان نے اپنے سر کے بال سفید کر دیے اور شاعری اور شعر گو خواتین و حضرات کی آخری دم تک حوصلہ افزائی کی۔
الغرض آج بھی شاعری سے شغف رکھنے والے خواتین و حضرات اپنے ذوق و شوق کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جن میں ایک جماعت شعرأ کی کافی کہنہ مشق ہے اور ایک جماعت سخن شناسی کے رموز و اوقاف کو ازبر کرنے کی سر توڑ کوشش کر رہی ہے۔ ایک اور جماعت جو شاعری کرنا چاہتی ہے مگر وہ شاعری کے بحور و اوزان سے بے خبر ہیں اور اس کی پیچیدگی اور مشکل گھاٹی کو سیکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ اپنے ذوق کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے ہوئے دیکھ کر ٹوٹ جاتی ہے۔ لیکن آج بھی ایسے شعرأ جو علمِ عروض سے دور ہیں یا غیر شناس ہیں ، اُن کے ذوق ،شوق اور فن کو زندہ رکھنے کا بھیڑا اٹھاتے ہوئے فلکِ ادب پر ایک ستارہ رونما ہوا ہے۔ میری مراد میرے ہر دلعزیز ،دوست،استاذ ،ادیب اور شاعر جناب ناظم پونچھی سے ہے۔ موصوف نو جوان اور ادب شناس ہیں۔پیشہ سے ایک کامیاب اور بہترین استاذ ہیں۔ ناظم پونچھی صاحب کا تعلق گاؤں کالابن تحصیل مینڈھر اور ضلع پونچھ سے ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ موصوف کسی تعرف کے متاج نہیں ہیں۔ موصوف نے جب اپنی پہلی تصنیف” کلی“ قارئین کے حوالے کی تو موصوف کی اس ایچیومینٹ کو خوب سراہا گیا۔ اب موصوف نے آگ سے کھیلنے کے مترادف کام بے حد کامیابی سے نہایت ہی پلے ایبل میتھاڈ سے انجام دے دیا ہے۔اور یہ کام ہے عروض کو آسان سے آسان تر کر کے ان شعرأ کے کلام کو محفوظ کرنا اور شعر گوئی کے ذوق کو زندہ رکھنا ، جو علمِ عروض کی دشواریوں سے نہ برد آزما ہونے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ محترم مصنف نے اظہار،اخفا،ادغام اور تلفظ کے دیگر قاعدوں سمجانے کے ساتھ ساتھ اوزان کو قاٸم کرنے کے لٸے ایک ماہر سائنس دان یا ادیب کی طرح ایسا تجربہ کر دکھایا ہے کہ جو علمِ شعر کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے۔ محترم ناظم پونچھی صاحب نے نہایت ہی آسان طریقے سے عروض کا متبادل ایجاد کر دیا ہے۔ مجھے موصوف کی اس اختراع کو ”دریافت“ کہنے کا کوئی حق نہیں ہے بالکل یہ اُن کی ”ایجاد“ ہے جو نئے صاحبانِ سخن واران، بالخصوص اُن شعرا کے لیے ایک تحفہ ہے جو علمِ عروض کو اپنی شاعری کاقاتل سمجھ کر شعر کہنا ترک کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ان خواتین و حضرات جو شعر کو اپنی مرضی کے مطابق بغیر عروض کے قانون کا خیال یا پرواہ کیے ہوئے کہہ رہے ہیں ، کے لیے بھی گھر واپسی کا ایک سنہری موقع ہے کہ عروض کے اس متبادل راستہ کے ذریعے اپنے کلام کو موزوں، ہم وزن بنا سکیں۔ موصوف کی اس عملی سعی کو اللہ تعالی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے علم میں مزید اضافہ کرے اور طالب علموں کے لیے فیض و برکت والا بنائے ۔ اَمین!
رمیز راجہ
اہم۔ اے۔ اردو، ایم۔اے۔پولیٹکل سائنس۔، سی۔سی۔ایس ۔ان کمپیوٹر،
اسلامک کورس : قراءت، مصنف : ٹیوریزم آف جموں و کشمیر۔ صحافی/ ایڈیٹر این۔ٹی وی۔نیوز / یوٹیوبر،بلاگر۔
Contact: 9149735616
Email: rameezrajasustani93@gmail.com
شاعری کا آسان طریقہ
(عروض کا متبادل)
مصنف
ناظم پونچھی
c جملہ حقوق بحقِ مصنف محفوظ ہیں۔
کتاب کا نام :…… شاعری کا آسان طریقہ
مصنف :…… ناظم پونچھی
کتابت وسرورق:…عبد المنان گورسی(توحید کمپیوٹرس سری نگر) 7006623882
gorsi7373@gmail.com
سنِ طباعت :… 2022
٭……پتو
ناظِم پونچھی
کالابن مہنڈر پونچھ جموں وکشمیر
رابطہ نمبر:…9906946773
انتساب
فہرست
1
عروض کیا ہے ؟
2
عروض سے رکاوٹیں
3
عروض کا متبادل
4
اردو زبان کے تئں کی جانے والی عمومی غلطیاں اور ان کا حل
5 گول ہے(ہ) اور دو چشمی ہے(ھ) میں فرق
عروض کیا ہے ؟
عروض ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے شاعری کے اوزان (آوازوں ) کو منتخب شُدہ بحروں کے ذریعے برابر کیا جاتاہے ۔ ان میں سے چوبیس بحریں مشہور ہیں جن کے نام اور ارکان الگ الگ ہیں۔ مثلاًایک بحر ہے متقارب مثمن سالم اس کے ارکان ہیں
فَعُوْلَنْ فَعُوْلَنْ فَعُوْلَنْ فَعُوْلَنْ
یہ بحر ایک ، دو، دو کے وزن پر ہے ۔ہم شعر میں الفاظ کا استعمال اس طرح سے کریں گے کہ پہلے ایک آواز الگ سے پھر دو اور دو آوازیں باہم ٹکراتی ہیں۔ مثلاً ایک لفظ محبت ہے اس کا وزن اس طرح سے ہے مُ ایک آواز ، حب دو آوازیں اور بت کی بھی دو آوازیں ۔ عروض میں آوازوں کو اس طرح علامات کے ذریعے ظاہر کیا جاتاہے ۔ محبت : -۱ -- ۲ -- ۲
اسی بحر میں میری غزل کا یہ ایک شعر
بھلا تھا اگر ہم نہ اظہار کرتے
محبت ہی ہوتی نہ بیمار کرتے
الفاظ
اوزان / ارکان
علامات
بھلا تھا
فعولن
- -- --
اگر ہم
فعولن
- -- --
نہ اظہا
فعولن
- -- --
رکرتے
فعولن
- -- --
محبت
فعولن
- -- --
ہی ہوتی
فعولن
- -- --
نہ بیما
فعولن
- -- --
ر کرتے
فعولن
- -- --
اس طرح دونوں مصرعوں میں بیس بیس آوازیں ہیں اور دونوں میں ان کی ترتیب بھی برابر ہے۔یعنی ایک ، دو اور دو ۔
علاّمہ اقبال کی مشہور غزل جس کا پہلامصرع ہے،"ستاروںسےآگےجہاں اور بھی ہیں ‘‘بھی اسی بحر میں ہے ۔ یاد رہے کہ بحروں کا علم حروف یا الفاظ کی گنتی کا علم نہیں ہے بلکہ کسی لفظ میں پیدا ہونے والی آوازوں کا علم ہے ۔ اسی لئے وہ حروف جو بے آواز(Silnet) ہیں مثلاً ’’واؤ معدولہ ‘‘وغیرہ کو اس میں شمار نہیںکیا جاتا ہے اور جو حروف آدھی آواز دیتے ہیں ان کے لئے شاعر کو اختیار ہے چاہے وہ شامل کر ے یانہ کرے۔اُن کا تفصیلی تذکرہ آنے والے باب میں کیا جائے گا۔
٭٭
عروض سے رکاوٹیں
علمِ عروض حسنِ کلام کے لئے جس قدر مفید ہے اُسی قدر پیچیدہ بھی ہے ۔ اس کا سیکھنا دریا پار کرنے کی مانند اور اس کا استعمال کرنا خار دار کانٹوں میں اُلجھنے کی مانند ہے ۔
میں بہت سارے شعرأ کو جانتاہوں کہ جن کی فطرت میں تو شاعری موجود ہے مگر عروض نے اُن کی صلاحیتوں کو یاتو محدود کردیا یا پھر کُلّیتاً ختم کردیا ۔ بعض ایسے ہیں جو کلام لکھنے کے بعد عروض پر جانچتے ہیں اگر فٹ آگیا تو ٹھیک ورنہ خود ہی رد کردیتے ہیں ۔ بعض نے لکھنا توشروع کیا مگر جب عروض نے گھیرا ڈالا تو میدا ن چھوڑ کر بھاگ نکلے ۔ بعض نے اردو زبان میں لکھنا شروع کیا مگر جب عروض کی وسعت پہ نظر پڑی تو اردو کو چھوڑ کر اپنی مادری زبانوں مثلاً گوجری ، پہاڑی وغیرہ میں لکھنا شروع کردیا۔ بعض نے شاعری کے میدا ن کو چھوڑ کر نثر کو اپنا میدان بنالیا ۔ چنانچہ کرشن چندر کے بارے میں کچھ ایسا ہی کہا جاتاہے ۔جسکا ثبوت علی سردار جعفری کی اس تحریر سے بھی ملتاہے ۔
’’ سچّی بات یہ ہے کہ کرشن چندرکی نثر پر مجھے رشک آیا ہے۔ وہ بے ایمان شاعر ہے جو افسانہ نگار کا روپ دھا ر کے آتاہے اور بڑی بڑی محفلوں اور مشاعروں میں ہم ترقی پسند شاعروں کو شرمندہ کرکے چلا جاتاہے ۔‘‘
کبھی کبھار انسان کے ذہن میں عمدہ خیالات ٹھاٹھیں مار کر الفاظ کا روپ اختیار کرتے ہیں۔ انسان انہیں گُنگُنا نے لگتا ہے ۔ لیکن جب کاغذکی زینت بنا کر عروض پر پرکھنے کی کوشش کرتاہے تو دِل سخت رنجیدہ ہوتاہے ۔ چنانچہ میں جب اپنی یہ غزل لکھ رہا تھا۔
تصویر نہیں بدلتی ، تقدیر نہیں بدلتی
ٹوٹے ہوئے خوابوں کی تعبیر نہیں بدلتی
یہ غزل مفعول ، مفاعیلن ، مفعول ، مفاعیلن کے وزن پر ہے ۔ پہلے دونوں مصرعے وزن پہ اچھی طرح اُتر آئے مگر جب دوسرا شعر لکھا تو میں نے لکھا ۔
پہاڑ تراشاتو منزل تک رسائی کی
دیکھا تو ان ہاتھوں کی لکیر نہیں بدلتی
مگر عروض نے قبول نہ کیا تو لکھنا پڑا
پہاڑ تراشا تو منزل پہ رسائی کی
دیکھا تو یہ ہاتھوں کی لکیر نہیں بدلی
اسی طرح ایک شعر لکھا۔
حسین چہرہ ، مسکین طبیعت ، سر پہ بوجھ اُٹھا رہی ہے
کہیں ماں باپ کے گھر کی زینت ،خاوند کا گھر بسارہی ہے
پھر ایک اُستاد کے پاس بھیجا اُنھوں نے اس کے اوزان برابر کرکے اس طرح لکھا۔
حسین چہرہ ہے ، نیک دل ہے وہ بوجھ سر پر اُٹھا رہی ہے
تھی گھر کی ماں باپ کے جو زینت ، کسی کی دُنیا بسارہی ہے
یہاںکچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو عروض و اوزان کا خیال کئے بغیر لکھے جارہے ہیں ۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہمارا کام اپنا ہے اور ناقدین کا اپنا ہے کہ وہ اس پر کیا رائے قائم کریں۔ بعض الفاظ گِن گِن کر، بعض حروف گِن گِن کر اور بعض گُنگُنا کر گزارا کررہے ہیں۔
ان ساری مجبوریوں ، لاچاریوں ، رکاوٹوں اور مشکلات کو دیکھ ہی رہا تھا کہ اللہ پاک نے ذہن میں ڈالا کہ کیوں نہ کوئی متبادل راستہ اختیار کیا جائے جو آسان ہو اور نئےلکھنے والوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں معاون ثابت ہو۔
بے شک ہم ایک مشینی دور سے گزررہے ہیں ۔ آج کے انسان کی عمر کم اور ذمہ داریاں زیادہ ہیں ۔ اسی لئے زندگی کے ہر شعبے میں انسان اختصار تلاش کررہاہے ۔ مثلاً ٹیکنالوجی کی جگہ نینو ٹیکنالوجی ، ایپ کی جگہ لائٹ ایپ ، ویٹ کی جگہ لائٹ ویٹ وغیرہ وغیرہ۔ تو آئے ہم بھی علمِ عروض کا کوئی متبادل اور مختصر راستہ کیوںنہ تلاش کریں ۔
٭٭
عروض کا متبادل
ہمیں شاعری کرنے یا شاعری کے قوانین جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ شاعری کیا ہے۔ شاعری کی کچھ تعریفیں مندرجہ ذیل ہیں ۔
٭:…جذبات وخیالات کے اظہار کا نام شاعری ہے ۔
٭:…شاعر اپنے گردو نواح میں پیش آنے والے واقعات کو غور سے دیکھتا ہے جو کہ اس کی حساس طبیعت پر گہرا اثر ڈالتے ہیں پھر وہ قلم اُٹھا کر اپنے تاثرات کو کاغذات کی زینت بنالیتاہے شاعری کہلاتی ہے ۔
٭:…الفاظ کے ردو بدل کا نام شاعری ہے ۔
٭:…جو گائی جاسکے وہ شاعری اور جو نہ گائی جاسکے وہ نثرہے ۔
٭:…’’ نثرمیں الفاظ بہترین ترتیب میں پیش کئے جاتے ہیں اور شاعری میں بہترین الفاظ بہترین ترتیب میں پیش کئے جاتے ہیں ۔‘‘(کولرج)
٭:…حالیؔ کے نزدیک شاعری کے لئے ’’وزن‘‘ قافیہ وردیف ، تخیل ، مطالعۂ کائنات اور تحفض الفاظ ضروری ہیں ۔
مندرجہ بالا بحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شاعری صرف وزن کا نام ہی نہیں ہے اور میرا مقصد بھی وزن سے نجات کا راستہ نہیں ہے بلکہ وزن پر اتنا زور دینا کہ وزن کو ہی شاعری سمجھ لینا کسی طرح مناسب معلوم نہیںہوتا ۔
جاوید صادن صاحب نے اپنے ایک مقالمے میں عروض کو شاعری کے لئے لازمی قرار دیتے ہوئے اس پر بہت زور دیا ہے مگر ساتھ ہی میں وہ اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ :
’’ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر روز ہزاروں شعر کہے جاتے ہیں ، مسودے اور دیوان سِپر سِپر گلی گلی کھومتے ہیں ۔ کتابیں بے آواز رنگوں میں اور بے بنیاد آہنگوں سے آراستہ وپیراستہ مارکیٹ میں آتی ہیں ۔‘‘
اب سوچنا یہ ہے کہ ایسے شعرأ کا کیا ہوگا جن کی شاعری بے بنیاد آہنگوں سے پُر ہے اور ایسی شاعری وجود میں کیوں آتی ہے یا آرہی ہے ۔ اس کا حل تلاش کرنے کی یہ ایک کوشش ہے ۔
شاعری کے لئے عروض کے علاوہ جو باقی لوازمات ہیں جیسے ردیف ، قافیہ ، تخیل ، جذبات ، اصناف کی شناخت وغیرہ یہ تو کسی قدر آسان بھی ہیں مگر آئے ہم وزن کی قائم کرنے کے لئے مجوّزہ بحروں کے علاوہ جن چیزوں کی ضرورت ہے یا جن سے وزن قائم رہ سکتاہے اس پر بحث کریں ۔
(نوٹ ):1۔شاعر کے لئے لازمی ہے کہ وہ تلفظ سے بخوبی واقف ہوکیونکہ وزن آواز کا ہی ہوتاہے ۔ تلفظ کو سیکھنے کےلئےلغات(Dictionaryکااستعمال کرنا چاہیے۔
2۔ حرکات کا علم:1 زبر ، زیر ، پیش کوحرکات کہتے ہیں۔ شاعر کے لئے لازمی ہے کہ وہ پہچانے کہ کِن حروف پر ان کا استعمال کِس طریقے سے ہوتاہے ۔ مثلاً لفظ ـ ۤمیسّر ہے یا مُیسّر۔ گَلاب ہے یا گُلاب ۔ ان کو آسانی سے سمجھنے کے لئے لغت (ڈکشنری) کا استعمال کرے۔
یاد رہے کہ (ھ)اور (ء)کا شمار بھی حرکات میں ہوتاہے ۔ بعض لوگ انہیں حرف سمجھتے ہیں جو کہ غلطی ہے اور بعض دو چشمی ھا(ھ) اور گول ہا(ہ )کو ایک ہی سمجھتے ہیں یہ بھی درست نہیں ہے ۔ مثلاً مجھے کو مجہے لکھنا یا بارھویں کو بارہویں لکھنا غلط ہے ۔(اس بارے میں کتاب کے آخر میں ایک مضمون درج ہے۔)
۲ ) ۤ ۤ مد بھی ایک حرکت ہے اس سے الف کی آواز دوگنی ہوجاتی ہے اور وزن میں بھی دوگنا شمار کیا جاتاہے ۔
۳) -ّ تشدید جس حرف پر تشدید ہو اس کی آواز بھی دوہری ہوجاتی ہے مثلاً انّار میں نون کو دومرتبہ پڑھا جاتاہے ۔
۴) تنوین ( -ً -ٍ -ٌ )ان کو تنوین اس لئے کہتے ہیںکہ اس سے نون ساکن کی آواز پیداہوتی ہے ۔ اردو میں ان کا استعمال بعض الفاظ پر اس طرح ہوتاہے ۔ مثلاً، عموما"، تقریباً وغیرہ عموما "اس کو عمومن پڑھتے ہیں اور الف غیر متحرک ہے اس لئے پڑھا نہیں جائے گا۔
۵) نون غنّہ وہ نون جس کی آواز ناک میں چھُپ جاتی ہے ۔ مثلاً ہوں ، بوں ، منہ ، گنگاوغیرہ ۔ اس میں شاعر کو اجازت ہے وہ اس (نون غنّہ )کو وزن میں شمار کرے یا نہ کرے ۔
۶) واؤ معروف: جس سے پہلے پیش ہو مثلاً دُور ، نُور وغیرہ ۔اس واؤ کو وزن میں لازمی طور پر شمار کیا جائے گا۔
۷) واؤ مجہول : جس سے پہلے زبر ہو مثلاً ہوش، زَور ، دَوڑ وغیرہ اس میں شاعر کو اختیار ہے ۔
۸) واؤ معدولہ: جو لکھنے میں آئے مگر پڑھنے میں نہ آئے ۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ اس سے پہلے والا حرف (خ)ہوگا ۔ مثلاً خواب، خوراک، درخواست وغیرہ ۔ اس کو شمار نہیں کیاجائے گا۔
۹) ہے / ہائے ملفوظی : جو (ہ) کھل کر آواز دے۔ مثلاً آہ ، واہ ، گاہ وغیرہ ۔ اسے وزن میں شامل کیا جائے گا۔
ہے / ہائے ۔مختفی : جو (ہ)کھل کر آواز نہ دے ۔ مثلاًہفتہ ، سایہ وغیرہ ۔ یہاں اختیار ہے ۔
۱۰) یے /یائے معروف : جو کھل کر آواز دے اس کی پہچان یہ ہے کہ اس کے پیچھے والے حرف کے نیچے زیر ہوتی ہے ۔مثلا ً امیر، فقیر ، عجیب وغیرہ ۔ اِسے وزن میں شمار کیا جائے گا۔
۱۱) ے / یائے مجہول : جو کھل کر آواز نہ دے اس کے پیچھے والا حرف غیر متحر ک ہوتاہے ۔ مثلاً سیر ، دیر ، ہے، لئے وغیرہ یہاں شاعر کو اختیار ہے ۔
۱۲ ) ے / یائے مخلوط : جو آگے والے حرف سے مل کر آواز دے ، مثلا ً کیا، کیوں ، پیاس وغیرہ۔ اسے بھی وزن میں شمار کیا جائے گا۔
۱۳ ) تخفیف : کسی حرف کو ہلکا یا کم کرنا ، مثلا ، دیوانہ کو دوانہ ۔ پیغمبر کو پیمبر وغیرہ ۔
۱۴ ) زیادت : لفظ میں کسی حرف کو وزن برابر کرنے کے لئے زیادہ کرنا ۔ مثلاً پر تو سے پر توہ وغیرہ ۔
۱۵ ) ملفوظ : وہ حرف جو بولنے میں آئے مگر لکھنے میں صرف علامت کا استعمال ہو ۔ مثلاً اسمٰعیل میں کھڑی زبر الف کی آواز دیتی ہے۔ اسے وزن میں شمار کیا جائے گا۔
۱۶ ) غیر ملفوط : وہ حرف جو لکھنے میں آئے مگر پڑھنے میں نہ آئے ۔ مثلاً بالکل میں الف کو پڑھا نہیں جائے گا اور وزن میں بھی شمار نہیں کیا جائے گا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مندرجہ بالا نقاط کو ذہن میں رکھتے ہوئے وزن کو کس طرح قائم کیا جائے گا۔ اس کے لئے مندرجہ ذیل مثال ملاحظہ فرمائیں ۔
’’ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ‘‘
- -- -- - -- -- - -- -- - -- --
فعولن فعولن فعو لن فعو لن
علامہ اقبال ؒ کی یہ غزل بحر متقارب مثمن سالم کے وزن پہ ہے ۔اس پر غور کریںیہاں اس مصرعے میں ’’ں‘‘ اور ’’ے ‘‘ کو وزن میں شمار نہیں کیا گیا ہے ۔ میں جو چیز عروض کے متبادل میں پیش کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ ہم وزن کو برابر کریں مگر مجوزہ بحروں کی گرفت سے باہر ہوکر کیونکہ میر اخود کا بھی ماننا ہے کہ
حرف حرف کا کیجئے حساب
شعر تب ہوجائیں گے لاجواب
اب وزن کو کس طرح برابر کرناہوگا اس کے لئے ایک مثال
سامنے میرے آئے کوئی
دل کو میرے بہلائے کوئی
اب اس شعرکا وزن ہم اس طرح سے کریں گے کہ پہلے مصرعے اور دوسرے مصرعے کی آوازوں کو گن لیں گے ۔
سا منے میرے آئے کوئی
-- - -- -- -- -- -- -- - - (۱۷)
دِل کو میرے بہلائے کوئی
-- - -- -- -- -- -- -- -- (۱۷)
اب ہم نے دیکھا کہ پہلے مصرعے میں بھی سترہ آوازیں ہیں اور دوسرے میں بھی سترہ ۔ بس اسی طرح ایک شاعر آسانی کے ساتھ اپنے خیالات کونغمگی کا روپ دے سکتاہے ۔
وضاحت کے طور پر ایک بات عرض کرتا چلوں کہ آج اردو کو چھوڑ کر دیگر دیسی زبانوں میں جتنا بھی شعری مواد موجود ہے وہ عروض سے مبراہے ۔ کہنے میں لوگ کہتے ہیں مگر یہ کلام جو کہ گوجری ،پہاڑی ، پنجابی زبانوں میں ہے یہ ایک الگ اور نمایاں دھن پر ہے ۔ ا لاّ ماشاء اللہ کہ آج کے کچھ شعراء جو عروض سے پوری طرح واقف ہیں وہ عروض کو مدـنظر رکھ لکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ پھر بھی دیکھا گیا ہے کہ جب کلام گانے والوں کے ہاتھوں چڑتاہے تو اس میں کانٹ چھانٹ آہی جاتی ہے۔
لہٰذا یہ طریقہ جو میرے ذہن میں میرے رب نے ڈالا ہے دیسی زبانوں میں لکھنے والوں کے لئے 100%معاون ثابت ہوگا ۔ ان شاء اللہ
محترم سائیں فقر دین صاحب کا یہ کلام بھی کچھ اسی انداز میں ہےـ:
؎ خدا کو یاد کر بندے فضل سے رحم عطا ہو گا
پڑھودرود سرورپرجوشافع مصطفی ہوگا ؎ رب رحیم کریم غفارا قاد ر جل جلالی یا رب ساڈے دل سماوے کلمہ طیب عالی
اردوزبان کے تئں کی جانے والی عمومی غلطیاں اور ان ا حل
اردو سرزمین ہند میں پیدا ہونے والی وہ واحد زبان ہے جس نے ایک قلیل مدت میں نشوونما پا کر ترقی کے وہ مدارج طے کئیےجوکہ کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح پر ایک منفرد مقام پایا اسی لئے داغ نے میں نے کہا تھا کہ
؎ اردو جسے کہتے ہیں ہمیں جانتے ہیں داغ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
اردو کی اس ترقی کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ زبان سادہ ہے اور دوسری زبانوں کے ساتھ ایک دم ضم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسی لئے ہر کوئی کہتا ہے کہ اردو آسان ہے لیکن وہ اس بات کو بھول گیا کہ اب یہ وہ اردونہیں ہے جسے پنجابی، گجراتی، سندھی وغیرہ کہا جاتا تھا بلکہ اب اردو زبان نشونما پا کر اپنی ایک مکمل اور منفرد شکل رکھتی ہے اور اب اس کواس کی ذاتی شکل میں ہی پڑھنا،لکھنا اور بولنا مناسب ہے مگر اس ضمن میں ہمارے ہاں بہت ساری خامیاں اور لغزشیں نظر آرہی ہیں جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔
تقریری غلطیاں:…بنیادی طور پر زبان کی دو شکلیں ہوتی ہیں تقریری اور تحریری۔ ماہرینِ لسانیات کا ماننا ہے کہ زبان کی اصل تقریر یعنی بول چال کی زبان ہے اور تحریری زبان بول چال کی زبان کی نمائندگی کرتی ہے۔افسوس ہمارے ہاں اردو کو آسان سمجھ کر اس ضمن میں کافی کوتاہیاں کی جاتی ہیں مگر اس کو آسان سمجھنے والوں کو داغ کایہ شعر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
کسی بھی زبان کی ترویج و ترقی میں میڈیا کا اہم رول ہوتا ہے ہمارے یہاں میڈیا والے ہی لاپرواہ نظر آ رہے ہیں ہم ہر روز ٹی۔وی، ریڈیو یا دیگر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں میں جب سترہ کو ستارہ، انتیس (اُن۔تیس) کو اونتیس، مونث کے ساتھ کا،مذکرکے ساتھ کی،ہے کی جگہ ہیں اور ہیں کی جگہ ہےوغیرہ سنتے ہیں تو دل رنجیدہ ہوتا ہے۔چونکہ میڈیا ہی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے اور جب عمومی لوگ اس غلط ملط اردو کر سنتے ہیں تو یہی غلط اردو لوگوں میں بھی رائج ہوتی ہے۔
لہٰذا ان غلطیوں کو دور کرنے کے لئے میڈیا والوں سے گزارش ہے کہ وہ مخارج، تلفظ اور قواعد کے اصولوں کا خاص خیال رکھیں۔
تحریری غلطیاں:… اردو کی تحریری غلطیوں کی اگر ہم بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کا بھی حال ٹھیک نہیں ہے وہ اردو رسمُ الخط سے کافی حد تک ناواقف ہیں۔لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ اردو میں ہی بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کی بعد بھی لوگ اس چیزسے ناواقف ہیں کہ سین (س) کے کتنے دانت ہوتے ہیں صواد اور عین کو جب آدھالکھا جاتا ہے تو ان کی شکل میں کیا فرق ہے اسی طرح سے ف اور ض، ف اور ق وغیرہ وغیرہ۔
اردو کے لئے جتنے بھی (Keyboards) بنائے گئے ہیں وہ بھی نامکمل ہیں۔اکثر (Keyboards) ایسے ہیں جن میں علامات کا استعمال بہت کم ہے اور بعض میں تو حروف بھی مکمل نہیں ہیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ ہمیں آج تک اس کا بھی علم نہیں ہے کہ اردو میں کل کتنے حروف تہجی ہیں۔علامتیں کتنی ہیں۔حرف اور علامت میں کیا فرق ہوتا ہے؟صرف یہی نہیں ہم ان حروف کے مخارج بھی اپنی علاقائی زبانوں کے اثرات کے تحت اپنی اپنی مرضی سے ادا کرتے ہیں مثلاً چے(چ) کو چیم پڑھنا، بے (ب) کو بے آ پڑھنا، خے (خ)کو کھ اور کھے (کھ) کو خے،فے(ف) کو پھ اور پھ کو ف یا پھر ڑے (ڑ) کو اڑے پڑھنا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اصل زبان بول چال کی زبان ہے اسی لئے غلط پڑھنے والوں کو اگر کہا جائے کہ پھل لکھو تو وہ فل لکھتے ہیں اگر کہا جائے گل لکھوں تو وہ غل لکھتے ہیں اس کی زیادہ تفصیل میں یہاں نہیں دے سکتا ۔البتہ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ میرے یوٹیوب چینل Nazim Poonchi,s Urdu Lecturer پر جا کر دو ویڈیوز
1:…اردو حروف تہجی کی تعداد اور ساخت اور
2:…اردو رسم الخط…… کو ضرور ملاحظہ فرمائیں۔
آخر میں میری گزارش ہے کہ ہم سب مل کر اردو کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں اور ایک دوسرے کی اصلاح کریں،سیکھنے سکھانے کے عمل کو فروغ دیں، اردو کو صحیح سنیں،صحیح بولیں اور صحیح لکھیں۔
گول ہے (ہ) اور دو چشمی ہے(ھ) میں فرق
ہے جس سے عربی میں ہا کہتے ہیں کی تین قسمیں ہیں۔ ایک کو ہم حلقی حے (ح) ایک گول ہے(ہ)اور ایک کودوچشمی ہے (ھ)کہتے ہیں۔ حلقی ہے (ح)کو حلقی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ وسط حلق یعنی حلق کے درمیان میں سے ادا ہوتی ہے اور گول ہے (ہ)حلق کے شروع یعنی سینہ کی طر
Comments
Post a Comment