‎علم ‏عروض ‏سے ‏راہ ‏نجات

      علم عروض ایک ایسا علم ہے جس کے ذریعے شاعری کے اوزان (آوازوں) کو برابر کیا جاتا ہے۔اس میں شک نہیں ہے کہ یہ علم شاعری کے لئے کافی مفید ہے۔ زمانہء قدیم میں لوگوں کے پاس فرصت کے لمحات تھے اور اکثر شعراء پیشہ ورانہ شعراء تھے مگر آج کل ہر آدمی مشین کی طرح مصروف کار ہے اسی لئے ہر شے کا اختصار تلاش کرنے اور اسے استعمال کرنے میں دنیا محو ہے۔ مثلاً ٹیکنالوجی کی جگہ نینو ٹیکنالوجی، ایپ کی جگہ لائٹ ایپ، ویٹ کی جگہ لائٹ ویٹ وغیرہ وغیرہ۔
      آؤ غور کریں کہ شاعری کسے کہتے ہیں؟ جذبات واحساسات کو مترنم انداز میں پیش کرنے کا نام شاعری ہے۔
الفاظ کے ردو بدل کا نام شاعری ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔
         آؤ ہم بھی کوئی ایسا راستہ تلاش کرتے ہیں تاکہ عروض کے لمبے چوڑے دریا میں پڑنے کے بغیر ہی نل سے پانی لے کر کام چلا لیں اور شاعری کے اوزان وترنم میں بھی فرق نہ ہو۔ اس کے لیے درج ذیل باتوں کو ذہن نشین کرنا ہو گا۔
1.الفاظ کا درست تلفظ
2.اظہار ،اخفا اور ادغام کے قواعد سے واقفیت
3. حذف و تخفیف اور معروف و معدول کی جانکاری
4.اصناف سخن کی ہیت کی جانکاری وغیرہ وغیرہ۔
        مثلاً۔ چہرا کھلا ہوا تھا گلاب کی طرح
               ملتا ہے اب مگر وہ خواب کی طرح
      احباب سے گزارش ہے کہ اپنی آراء سے نوازیں۔اگر لگا کہ میری عرض قابلِ قبول ہے تو اس میں مزید ترمیم اور اضافی کیا جائے گا۔
      انشاء اللہ

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات