میاں ‏بشیر ‏احمد ‏لاروی ‏رحمتہ ‏اللہ ‏تے ‏اتحاد ‏امت

میاں بشیر احمد لاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تے اتحاد امت
 میاں بشیر صاحب کی زندگی کا مچ سارا پہلو ہیں انھاں بچوں ایک اتحاد امت بھی ہے۔ یہ 2009 کی گل ہے جس ویلے ہوں نیو تاج پبلک اسکول بھنڈی جموں میں بطور پرنسپل کام کر ریو تھا۔ہم نے اسکول ماں  اینول ڈے منان کی تیاری کی تے میاں صاحب نا بطور مہمان خصوصی دعوت دتی تے وے تشریف لے آیا۔ انھاں نے اپنی تقریر کی شروعات درود پاک تیں کی۔اس تیں بعد مچ سوہنی گل دینی تے دنیاوی لحاظ کے نال سمجھائیں پھر اک واقعو سنائیو۔جس نا ہوں دسناں چاہوں۔
     انھاں نے فرمایو نے مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ کولے ست سو طاب علم پڑھ رہا تھا۔ ایک دن طالبعلماں نے اکن درویش کے بارے گل کی جے وہ اک جگہ چھپیو رے۔مولانا صاحب نے انکار کیو کے اسلام ماں رہبانیت کی کوئے گنجائش نہیں۔ کجھ عرصہ بعد مولانا کی ملاقات بھی اکن خدا دوست کے نال ہوئی تے ہٹ کے مولانا صاحب نے بھی تنہائی اختیار کی۔طالبعلماں ماں شور مچ گیو جے مولانا نے پڑھنو پڑھانو کیوں چھوڑدتو ۔کجھ عرصہ تیں بعد مولانا باندھے تشریف لے آیا تے ست سو طالب علم اکٹھا ہو گیا جے یہ کے گل ہے تم نے ہم نا منع کیو تھو۔اس ویلے مولانا نے فرمایو کے یو مٹھو میوہ ہے میں بھی ہنے چکھیو ہے لیو تم بھی چکھو۔
  اس گل تیں پتو چلے جے اہل اللّٰہ کی نظر ماں کتنی گہرائی وے۔صرف اتنو ہی نہیں اتحاد امت کے بارے تم نا اور بھی کھاسا واقع لار دربار کے نال جڑیا وا مل جیں گا۔ہوں خود بھی اسراہ کا دیوبندیاں نا جانو جیڑھا ان کا مرید ہیں۔ات اک گل افسوس کے نال عرض کروں جے میاں صاحب ناں منن آلاں کی بڑی تعداد راجوری پونچھ ماں ہے تے فرقہ پرستی کی آگ بھی راجوری پونچھ ماں ہی زیادہ کیوں؟
   آخر ما عرض کروں گو جے ہم ناں فرقہ پرستی تیں باز آ نو چاہئے۔ولیاں کی تعلیمات نا اپنانو چاہئے۔اتحاد امت اس ویلے امت کی اک بڑی ضرورت ہے۔ آؤ اقبال کی گل تے من لیاں۔
  اللّٰہ ایک، نبی صلی ایک، قرآن بھی ایک
 کچھ بڑی بات تھی کہ ہوتے مسلمان بھی ایک۔    
                             عرض گزار
                              ناظم پونچھی

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات