گوجری رسم الخط خط ‏بارے ‏اک ‏عرض

اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
 آج تھاری خدمت ما گوجری رسم الخط کے بارے ایک عرض ہے کے اس گل تیں ہم سارا واقف ہاں جے اس رسم الخط بارے خاصا اختلاف پایا جیں۔پھر بھی ایک گل جہڑی عام طور پر کہی جے تے اس پر سارا متفق ہوتا دسیں واہ یہ ہے کے ہم گوجری رسم الخط نا اردو کے نیڑھے کراں ۔چنگی گل ہے ہم نا ایک رسم الخط پر متفق ہونا بہت ضروری ہے پھر رہ کے لہجہ کی گل تے اپنا اپنا لہجاں ما پیا پڑھتا رہیں گا۔
  ہوں آج دو گل دسناں چاہوں1۔کا ،کے، تے گا ،گے،گی۔دیکھو اس گل پر تقریباً سارا متفق ہوتا لبیں نے غا،غے،غی نہیں لکھنو چاہئے۔
ہن ہم کا ، کے،کی لکھاں یا گا ،گے،گی۔عرض ہے جے ہم اردو کے نیڑھے کرن کی گل کراں پھر ہم نا قاعدہ بھی وہی اپنانا چاہیے۔اردو ما کا،کے،کی نا عطف کا طور پر تے گا،گے،گی نا مستقبل کی علامت کا واسطے استعمال کراں ۔مثال: اس کی روٹی گرم ہو گی۔(اردو)
اس کی روٹی کوسی وے گی۔(گوجری)
ہن کے کدھے کوئے لکھے اس گی روٹی کوسی وے گی۔ پھر فرق نہیں رہتو تے ایکن نواں گوجری پڑھن یا لکھن آلا واسطے مشکل بن جے۔
 نمبر دو عرض ہے جے گوجری تے اردو لکھتاں ما ھ تے ہ کے بیچ فرق رکھو ۔ھ ایک علامت ہے تے ہ ایک حرف ہے۔مثال :مجھے ،تجھے اور رہو کہو وغیرہ۔(اردو)
مھاری،تھاری تے رہنو،سہنو(گوجری)
      تھارو خیر خواہ ناظم پونچھی

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات