اردو زبان کے تٸیں کی جانے والی عمومی غلطیاں اور ان کا اردو زبان کے تئیں کی جانے والی عمومی غلطیاں اور ان کا حل اردو سرزمین ہند میں پیدا ہونے والی وہ واحد زبان ہے جس نے ایک قلیل مدت میں نشوونما پا کر ترقی کے وہ مدارج طے کئےجو کہ کسی کے وہم و گماں میں بھی نہیں تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی سطح پر ایک منفرد مقام پایا اسی لئے داغ نے میں نے کہا تھا کہ ؛ اردو جسے کہتے ہیں ہمیں جانتے ہیں داغ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہےاردو کی اس ترقی کی بہت ساری وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ زبان سادہ ہے اور دوسری زبانوں کے ساتھ ایک دم ضم ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔اسی لئے ہر کوئی کہتا ہے کہ اردو آسان ہے لیکن وہ اس بات کو بھول گیا کہ اب یہ وہ اردونہیں ہے جسے پنجابی، گجراتی، سندھی وغیرہ کہا جاتا تھا بلکہ اب اردو زبان نشونما پا کر اپنی ایک مکمل اور منفرد شکل رکھتی ہے اور اب اس کواس کی ذاتی شکل میں ہی پڑھنا ،لکھنا اور بولنا مناسب ہے مگر اس ضمن میں ہمارے ہاں بہت ساری خامیاں اور لغزشیں نظر آرہی ہیں جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔ تقریری غلطیاں :بنیادی طور پر زبان کی دو شکلیں ہوتی ہیں تقریری اور تحریری ۔ ماہرینِ لسانیات کا ماننا ہے کہ زبان کی اصل تقریر یعنی بول چال کی زبان ہے اور تحریری زبان اساسا بول چال کی زبان کی نمائندگی کرتی ہے۔افسوس ہمارے ہاں اردو کو آسان سمجھ کر اس ضمن میں کافی کوتاہیاں کی جاتی ہیں مگر اس کو آسان سمجھنے والوں کو داغ کایہ شعر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ؛ نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے کسی بھی زبان کی ترویج و ترقی میں میڈیا کا اہم رول ہوتا ہے ہمارے یہاں میڈیا والے ہی لاپرواہ نظر آ رہے ہیں ہم ہر روز ٹی۔وی، ریڈیو یا دیگر سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں میں جب سترہ کو ستارہ ، انتیس (ان۔تیس) کو اونتیس، مونث کے ساتھ کا ،مذکرکے ساتھ کی،ہے کی جگہ ہیں اور ہیں کی جگہ ہے، سنتے ہیں تو دل رنجیدہ ہوتا ہے۔چونکہ میڈیا ہی ترسیل کا اہم ذریعہ ہے اور جب عمومی لوگ اس غلط ملط اردو کر سنتے ہیں تو یہی غلط اردو لوگوں میں بھی رائج ہوتی ہے ۔ لہذا ان غلطیوں کو دور کرنے کے لئے میڈیا والوں سے گزارش ہے کہ وہ مخارج، تلفظ اور قواعد کے اصولوں کا خاص خیال رکھیں۔ تحریری غلطیاں: اردو کی تحریری غلطیوں کی اگر ہم بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اردو لکھنے اور پڑھنے والوں کا بھی حال ٹھیک نہیں ہے وہ اردو رسم الخط سے کافی حد تک ناواقف ہیں ۔لاپرواہی کا یہ عالم ہے کہ اردو میں ہی بڑی بڑی ڈگریاں حاصل کرنے کی بعد بھی لوگ اس چیز سے ناواقف ہیں کہ سین (س)کے کتنے دانت ہوتے ہیں صواد اور عین کو جب آدھالکھا جاتا ہے تو ان کی شکل میں کیا فرق ہے اسی طرح سے ف اور ض، ف اور ق وغیرہ وغیرہ۔اردو کے لئے جتنے بھی (Keyboards ) بنائے گئے ہیں وہ بھی نا مکمل ہیں۔اکثر (Keyboards) ایسے ہیں جن میں علامات کا استعمال بہت کم ہے اور بعض میں تو حروف بھی مکمل نہیں ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہمیں آج تک اس کا بھی علم نہیں ہے کہ اردو میں کل کتنے حروف تہجی ہیں۔علامتیں کتنی ہیں۔حروف اور علامت میں کیا فرق ہوتا ہے ؟صرف یہی نہیں ہم ان حروف کے مخارج بھی اپنی علاقائی زبانوں کے اثرات کے تحت اپنی اپنی مرضی سے ادا کرتے ہیں مثلاً چے(چ) کو چیم پڑھنا، بے (ب) کو بے آ پڑھنا، خے (خ )کو کھ اور کھے (کھ) کو خے ،فے (ف) کو پھ اور پھ کو ف یا پھر ڑے (ڑ) کو اڑے پڑھنا وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ اصل زبان بول چال کی زبان ہے اسی لئے غلط پڑھنے والوں کو اگر کہا جائے کہ پھل لکھو تو وہ فل لکھتے ہیں اگر کہا جائے گل لکھوں تو وہ غل لکھتے ہیں اس کی زیادہ تفصیل میں یہاں نہیں دے سکتا البتہ قارئین سے گزارش ہے کہ وہ میرے یوٹیوب چینل Nazem Poonchi,s Urdu Lecturer پر جا کر دو ویڈیوز 1. اردو حروف تہجی کی تعداد اور ساخت ، 2.اردو رسم الخط، کو ضرور ملاحظہ فرمائیں۔ آخر میں میری گزارش ہے کہ ہم سب مل کر اردو کے تئیں اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں اور ایک دوسرے کی اصلاح کریں ،سیکھنے سکھانے کے عمل کو فروغ دیں، اردو کو صحیح سنیں،صحیح بولیں اور صحیح لکھیں۔ عرض گزار ناظم پونچھی

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات