بنی اسرائيل کی گاٸے

‌                   بنی اسرائیل کی گائے
موسی علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حکم دیا کہ آپ اپنی قوم سے کہٸے کہ وہ ایک گائے کو ذبح کریں۔ جب موسی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم اللہ تعالی حکم دیتا ہے کہ آپ ایک گائے کو ذبح کیجئےتو قوم نےجواب دیا کہ اے موسی کیا آپ ہمارے ساتھ  تمسخرکر رہے ہیں؟ موسی علیہ السلام نے جواب میں کہا کہ معاذاللہ میں ایسا کام کیوں کروں گا جس کا حکم میرے رب نے مجھ کو نہیں دیا ہے ۔ قوم نے دوسرا سوال کھڑا کر دیا اور کہنے لگی اے موسی اپنے رب سے کہو کہ وہ گاٸے کیسی ہے؟تو پھر اللہ تعالی کی طرف سے جواب آیا تو موسی علیہ السلام نے قوم سے کہا کہ وہ گائے جو نہ ہی بوڑھی ہو اور نہ ہی بے کار ہو یعنی  درمیانے درجے کی ہو۔ قوم نے اپنی ہوشیاری کا ثبوت دیتے ہوٸے پھر سوال کھڑا کہ ہمیں ابھی بھی گاٸے کے بارے میں شک ہورہا ہے ؟آپ اپنے رب سے کہٸےکہ وہ بتائیں کہ اس کا رنگ کیسا ہے ؟ تو پھر جواب آیا کہ گاٸے ساری کی ساری زرد ہے اور اس کا رنگ ایسا ہے کہ جو دیکھنے والے کو خوش کردے ۔کہنے لگے کہ اے موسیٰ ابھی بھی ہمیں گاٸےکے بارے میں بہت شک ہو رہا ہے ؟پھر منجانب اللہ جواب آیا تو موسی علیہ السلام نے کہا کہ ایسی گائے جو ہر عیب سے پاک ہو اس نے نہ کبھی زمین کو جوتا ہو اور نہ کبھی زمین میں سینچاٸی کے لٸے  پانی  نکالا ہو ۔تو اب کہنے لگے کہ ہاں اب ہمیں سمجھ میں آ گیا۔ اب ہم گائے کو ذبح کریں گے۔ اب جب ذبح کے لٸے تیار ہوٸے تو پھر اتنی صفات والی گاٸے ان کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر بڑی مشکل سے ملی ۔
سبق: ١۔  زیادہ سوال کرنے والے اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے ہیں حالانکہ وہ ہوتے نہیں ہیں۔
نمبر2 ۔احکام کے متعلق زیادہ سوال کرنے سے آدمی بچتا نہیں بلکہ زیادہ پھنستا ہے۔
                     تحریر :ناظم پونچھی

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات