گوجری تحقیق از غنی غیور

۷گوجری مارفالوجی

تحقیق از غنی غیور

 مظفر آبادی/ کاغانی و الہوالی/اردو
نلّی / نرڑی/ گردن
کَھلّی/ کھلڑی/ کھال
سِللی/ سرڑی/کُھمبی
پلّی / پرّی/ پری
چِھلّی/ چِھلڑی / چھلکا
جُھلّی/ چہرڑی/ جھری
اج/ اج/ آج
ہچھو/ہچھو/اچھا
ہور/ہور/ اور
کجھ/ کجھ/ کچھ
ہنڑ/ہن/اب 
ہوں یا میں / ہوں یا میں/ میں
 یوہ ،یاہ/  یوہ ، یاہ  /یہ
واہ/ واہ / وہ
وے/ وے/وہ
یے/ یے / یہ
 تیں ناں یا تِنّاں / تناں /تجھ کو
میں ناں ، مِنِاں / مناں مجھ کو
تیں یا توں / تیں یا توں / سے
 بعض لوگ تنتے بھی 
انہاں / انہاں / انہوں
انہاں انہاں /انہوں
وے یا ہووَے/ وے/ ہووے یا ہوتا ہے

گوجری /میواتی

گوجری اور میتواتی میں معمولی فرق ہے ان میں تقریباًاسی فیصد مکمل مماثلت اور بیس فیصد جزوی اختلاف ہے  جو گوجر میوات سے آئے ہیں وہ میں کو میں بولتے ہیں جبکہ ہزارا اور کشمیر کے گوجر میں کے بجائے"ہوں " بولتے ہیں باقی الفاظ mix ہوچکے ہیں ہمارے یہاں لوگ پیٹ کو پیٹ بھی کہتے ہیں اور ٹیڈ بھی البتہ زیادہ قوی رجحان کی بنیاد پر مماثل کی ایک نامکمل سی فہرست یوں ہوسکتی ہے
ترے/تِن
وی یابی/بِس
ہوں /میں
اُس کو/وا کو
ڈیڈ/پیٹ
بچو /بالک
پوت/بیٹو
دھی/بیٹی
بیس/بیس
کھل/اٹھ
نس/دوڑ
بناں /نچائی
تے /ار
ور/پر 
اہاں /ہاں
 چنگو/بھلو
اُس تیں چنگو/وا تیں بھلو
کتی/کتیا
ہوں آں/میں ہوں
ہوں ہوؤں گو /میں ہوؤں گو
ہم نے ماریو/ہم ماریو
 نکو/چھوٹا

 مشرقی/مغربی مماثل ( cognates)
پیاز/پیاج
روضہ/روجا
گز/ گج
تغادو / تکادو
غا غے غی /کا ، کے ، کی
دیکھن/ہیرن
بُناں /تناں (تلے)
افراں / اپھراں
گیرو/گیدرو
گبرو/لڑو
 جیو/جیب
کہوڑو/کہوٗڑا
 پچھے/کاہڈ
 

 گوجری اور ہندکو کے مماثل الفاظ:

بال/ وال یا بال
ٹیڈ/ٹیڈ
جیو/جیب (زبان)
کوہنی/کونی/اراک
مُوت/مُتر
بوؤ/بُوا(دروازہ)
ہتھوڑو/ہتواڑایا ،اتھوڑا
کپڑو/کپڑا
دینہہ/دیوں ، دی
بدل/مینہ
پینگ/پینگ (دھنک)
بٹو/وٹا یا بٹا
 گارو/چیکڑ
کنڈو/کنڈو
کنَک/کنکھ
چاول/چول
ہلدی/ہلدل
مہیس/منج
پوچھڑ/پُچُھل
بوجھوں /بیجھوں
باپ/پیو
بھائیو/پَرا
پوت/پتر
جنوں /جناں (مرد)
سکّو/سُکّا (سولھا)
بڑو/وڈا
کد/کدوں ( when)
یاہ /اے
بکھ/وکھرا
  تلخیص ،بحوالہ دی گجرز جلد ۳ ص ۸۵۰ تا ۸۷۰

 

سنسکرت/ گوجری/ راجستھانی/ کانگڑی /پنجابی /ہندی
کرما/ کم/ کام/کم/ کام/کام
سپتا/ ست/سات/ست/ست/ سات
مِسٹھا/ مٹھو/میٹو/مِٹھا/مِٹھا/میٹھا
تپتا/تتو/تتو/تتا/تتا /تاتا 
مسٹا/متّھو/ ماتھو/ متھا/متھا/ماتھا
کرنا/کن / کن / کان/ کن/کن/کان
وتسا/بچھو/وچھ/وچھا/بچھا/ باچھا
وساٹی/بسنو/بسنو/وسنا/بسنا/بسنا
ویر/بیر/ویر/ویر/بیر/ بیر اور ویر
ورہَد/ بڑو/بڑو/وڈا/ بڑا/بڑا
گرام/گراں/گام/پنڈ/ گاو/گانو
نام/ناں/نام/ناں/ناؤ/نام
ستھان/تھا/تھام/تھاں/تھاو/سَتھَان
دنتا/دند/دانت/دند/دند/دانت
لَوْہا/لو/لو لوہا /لو /لوہا

بحوالہ دی گجرس جلد ۳ ص۳۳۴/۳۵
نوٹ بعض جگہ ترمیم کی ہے

گوجری الفاظ کی ہئیت یا مکتوبی شکل کامسئلہ:

گوجری میں لکھنے کے الگ الگ انداز پائے جاتے ہیں ان کو ایک ہی  وضع قطع پر لانے کے ضرورت ہے 
 گوجری میں مشرقی مغربی یا پھر مظفر آبادی و کاغانی ہئیتوں کو ایک ہی طرح لکھاجائے تو مناسب ہے
غا غے غی کے بجائے کا کے کی ہی اپنایا جاتا ہے پڑھنے والا اپنی تسلین کے لئے اسے غا غے غی پڑھ سکتا ہے ایسے ہی 
نال مال وغیرہ الفاظ گوجری میں تھوڑے الگ انداز سے پڑھا جاتا گوجری کا قاری اس کی تمیز خود ہی کرکیتا ہے دوسرے قاری کے کو معروف پڑھنے سے لفظ کی ہئیت نہیں بدلتی اس لئے الگ سے نشان قائم کرنے کی ضرورت نہیں 

بعض الفاظ
اردوی قالب  Urdu-ised spelling/ متبادل سطحی  گوجری ہجے

 ۱: ترٗو/ ترٗو ( اسقاط حمل)
 ۲: ماں/ ما بعض لوگ مانہہ لکھتے ہیں 
۳: مھارا /  مہارا (ہمارا) یہاں گوجری میں ھ محذوفہ ہوکر رہ جاتی ہے 
۴: بِچ /( بیچ پنجابی میں وِچ لکھا جاتا ہے اس لئے گوجری میں بِچ ہی لکھا جاتا ہے )
۵: کے /( کیا ) ہی لکھا جاتا ہے اس کو "کہ "لکھنا درست نہیں اس طرح اردو کے "کہ" سے مشابہت دور ہوجاتی ہے 

۶: بھ ، جھ ،  دھ اور "گھ "/پ یا پہہ ،چہہ  تہہ اور "کہہ "ہی لکھا جاتا ہے
جیسے پہیڈ ( بھیڈ)  چہگڑو( جھگڑو)  دھیال ( تہیال) اردو میں اسے پرال یابُھس کہتے ہیں 
گھ ( کہوڑو)  

۷:پڑ ، پڑی ( پہڑ یا پہڑی بمعنی پہاڑ ، پہاڑی ) پہڑی لکھنے سے دشواری پیدا یہ ہوتی ہے اگر کوئی غلطی "پ" پر زیر پڑھے گا توپِہڑی کا مطلب پوڑی کا مطلب زینہ بھی ہوتا ہے 

۸: بِن ، بَنا/ بنہہ ، بنہا ( اصل مصدر بنانا سے  بنہا لکھنا غیر ضروری اور خواہ مخواہ دشواری پیدا کر رہا ہے 
۹: بَھڑک بھڑکا / پہڑک پہڑکا
۱۰: ہمیشاں / امہیشاں 
۱۱: جہاز: جآز 
۱۲: مہیس/ مھیس
ملیھپ: ملیہپ
۱۳: بھگیاڑ/ پگیہاڑ
۱۴:تھارو/ تہارو
۱۵: پڑھ: پہڑ 
۱۶:اتھروں / آتھروں
۱۷:اپنا/ اپناں
۱۸: اچھو/ ہچھو ( اچھا)

 محولہ بالا مثال نمبر ۶  اور مخصبعض استثائی صورتوں کے علاوہ  گوجری کے سطحی ہجے الگ سے لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ انکے root words  یعنی مصادر پراکرت ہندی اردو میں ہی ملتے ہیں اس لئے گوجری کے اردوی قالب میں ہی تحریری شکل اور ہئیت کو اہنے قدیم ماخذات کے قریب رکھنے میں مصلحت ہے اس طرح  عام قارئین کے لئے بھی  گوجری سیکھنا آسان ہوجاتی ہے اور دوسرے طبقے کے قارئین بھی حظ یاب ہوسکتے ہیں 
ورنہ پوری املا کو الگ سے املائی شکل کی تجوویز کو اپنانے سے دشواریاں پیدا ہوجائیں گی گوجری زبان کی الگ سے اِملا تیار کی ہی نہیں جاسکتی کیونکہ گوجری کی گرامر (معمولی لہجائی صورتوں کو چھوڑ کر ) ہندوستانی الاصل ہے 
گوجری کی مجموعی گرامر اردو ہندی سے میل کھاتی ہے ۔

جاری

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات