مسعود احمد چودھری کی حیات و خدمات

ایک عہد کا خاتمہ ،گجر قبیلہ کے ’سرسید ' نہ رہے!
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//جموں وکشمیر کی معروف سماجی شخصیت ، باباغلام شاہ باد شاہ یونیورسٹی کے بانی وسابقہ وائس چانسلراور ریٹائرڈ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر مسعود احمد چوہدری طویل علالت کے بعد بروز جمعہ صبح 9بجے اِس دُنیافانی سے رخصت ہوگئے۔پچھلے تین روز سے اُن کی طبیعت زیادہ ناساز تھی، جس کے بعد اُنہیں گاندھی نگر جموں کی ایک نجی کلینک میں داخل کیاگیاتھا اور وہیں انہوں نے آخری سانس لی۔ ڈاکٹر مسعود احمد چوہدری کو دو سال قبل سرطان بیماری ڈائی گنوز ہوئی تھی جس وجہ سے وہ کافی کمزور ہوئے مگر ہمت نہ ہاری۔اُن کو گجردیش چیرٹیبل ٹرسٹ جموں کے نزدیک واقع قبرستان میں اپنی اہلیہ کی قبر کے صحن میں شام 7بجے پُر نم آنکھوں سے سپرد ِلحد کیاگیا۔ 78سالہ ڈاکٹر مسعود احمد چودھری کی دو مرتبہ نماز جنازہ پڑھائی گئی۔ گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ میں پہلی نماز جنازہ4:30بجے مفتی محمد اسلم مصباحی نے پڑھائی جس میں بلا امتیاز ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جن میں لگ بھگ پورے جموں کشمیرکے تمام اضلاع کی چیدہ چیدہ شخصیات ، بالخصوص خطہ پیر پنجال کی کم وبیش سبھی اہم سیاسی وسماجی شخصیات، جموں یا سانبہ اضلاع میں مقیم راجوری پونچھ سے تعلق رکھنے والے سول ،پولیس اور عدلیہ کے افسران، پروفیسرز، وکلائ، ڈاکٹرز، انجینئرز اور دیگر شخصیات سبھی اِس جنازہ میں موجود تھیں۔ دوسری نماز جنازہ شام 6:15بجے پڑھائی گئی جس میںاُن کے آبائی گاو¿ں کالا بن اور مینڈھر کے اطراف واکناف کے ساتھ ساتھ خطہ پیر پنجال سے تاخیر سے پہنچے لوگوں نے شرکت کی۔ ٹھیک شام7بجے اُنہیں قبر میں اُتارا گیا۔ اس ِ سے قبل 3:30بجے ڈاکٹر مسعود چوہدری کی جسد خاکی کو رہائش گاہ لاسٹ موڑ گاندھی نگر سے گرجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ لایاگیا جہاں کانفرنس ہال میں ہزاروں لوگوں نے اُن کے آخری دیدار کئے۔ یہاں پر اُنہیں پولیس کی طرف سے زبردست خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہوئے گارڈ آف آنر دیاگیا۔ پولیس سربراہ دلباغ سنگھ ، کمانڈنٹ جنرل ہیڈکوارٹر سری نواس، اسپیشل ڈی جی کرائم اے کے چوہدری، اے ڈی جی پی مکیش سنگھ، ایم کے سنہا ، دانیش رانا ، سابقہ ڈی جی پی ڈاکٹر ایس پی وید سمیت کئی سنیئر پولیس افسران نے اُن کی جسد خاکی پر پھولوں کے گلدستے پیش کر کے خراج عقیدت پیش کیا۔ پسماندگان میں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔ اہلیہ سال گذشتہ کویڈکی وجہ سے وفات ہوگئی تھی۔
بچپن اور تعلیم 
مسعود چوہدری سرحدی ضلع پونچھ کی تحصیل مینڈھر کے دور دراز گاو¿ں کالابن میں 10 مارچ 1944 کو استاد بابو فیض احمد اور بیگم ریشم جان کے گھرپیدا ہوئے ۔ انہوںنے پانچویں تک تعلیم گورنمنٹ پرائمری چھترال اسکول ،آٹھوں مڈل سکول مینڈھرسے اور پونچھ سے میٹرک پاس کرنے کے بعدسرمائی راجدھانی جموں کا رُخ کیا ۔مولانا آزاد میموریل المعروف ایم اے ایم کالج جموں سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعدعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔
ڈی ایس پی سے اے ڈی جی پی
سال 1967کو جموں وکشمیر پولیس میں بطور ڈی ایس پی بھرتی ہوئے۔1947کے بعد پولیس انتظامیہ میں اتنے بڑے عہدے پر فائض ہونے والے وہ گجر قبیلہ سے پہلے شخص تھے۔ سال 2004کو 37سالہ ملازمت سے سبکدوش ہونے سے قبل انہوں نے ایس پی جموں ، پونچھ ، کٹھوعہ ، اودھم پور ، ایس ایس پی سرینگر ، ایس ایس پی ویجی لینس ، سی آئی ڈی ، جموں،ویجی لنس کٹھوعہ رینج میں ڈی آئی جی ، ایڈمنسٹریٹر پی ایچ کیو؛ ڈائریکٹر پولیس اکیڈمی اودھم پور، آئی جی پی ، کرائم اور ریلوے کے عہدوں پرشاندار خدمات انجام دینے کے بعد 2002 میںترقی پاکر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر فائض ہوئے اور 2004 سے سبکدوش ہوئے ۔ریاستی اور ملکی سطح پر اُن کی خدمات کو سرکاری سطح پر بھی سراہا گیا۔ 1985میں اُن کو پولیس میڈل، 1994کو صدارتی پولیس میڈل اور شیر کشمیر پولیس میڈل سے نوازا گیا۔
گرجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں مسعوداحمدچوہدری سرسید احمد خان کے نظریات سے متاثرہوئے ،جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی کی راہ ہموار کردی۔یہیں سے انہوں نے گجرقوم اورپسماندہ لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کےلئے کرنے کی تحریک حاصل کی اورعزم مصمم کیا جس کو عملی شکل دینے کے لئے گجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ بنایا اور آج تاج محل کی طرح چھنی ہمت جموں میں موجود اعلیٰ شان عمارت کی تعمیر کا قام سال 1992میں شروع ہوا تھا جس کا افتتاح سال 2010میں ہوا۔ اسی ٹرسٹ کے تحت بارہویں تک خدابخش میموریل پبلک اسکول جیساتعلیمی ادارہ قائم چل رہا ہے جس کو کالج اور پھر ایک مکمل یونیورسٹی میں تبدیل کر نے کا اُن کا مشن تھا۔ ڈاکٹر مسعود احمد چوہدری کو گجر قوم کا ’سرسید‘بھی کہاجاتا ہے جنہوں نے اِس قبیلہ کی سماجی، تعلیمی، اقتصادی اور سیاسی ترقی کے لئے ناقابل ِ فراموش خدمات انجام دیںا ور اِس قبیلہ کو شناخت دینے، لسانی وثقافتی اعتبار سے متحدکرنے میں نمایاں رول ادا کیا۔ ڈاکٹرمسعوداحمدچوہدری کا شمار جموں وکشمیرکی چند ایسی ہستیوں میں ہوتاہے جن کے کارنامے میں سنہرے حروف میں درج کئے جانے کے قابل ہیں یایوں کہاجائے کہ ڈاکٹرمسعودچوہدری ایک تاریخ ساز شخصیت ہیں توغلط نہ ہوگا۔آپ غریب اورپسماندہ لوگوں کے دِلوں پرراج کرتے ہیں۔آپ کے انداز گفتار سے ذہن میں انقلاب اور قلب متاثر ہوجاتے ہیں۔ اُن کے خیال کی گہرائی ، فنی وادبی بصیرت ،ذہنی پختگی اور علمی بصیرت کا اعتراف اُن سے ملنے والی ہرشخصیت نے کیا ہے۔ دور درازگاوں کالابن سے آکر جموں وکشمیر اور ملکی سطح پر اپنی شناخت قائم کرنے والے ڈاکٹر مسعود چوہدری نے درج فہرست قبائل گجر بکروال کی تعلیم اورمعاشرتی اصلاح کے لئے وہ ناقابل ِ فراموش کام کیا جس کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھاجائے گا۔ پولیس آفیسرہونے کے ساتھ ساتھ مسعودچوہدری نے سماجی فرائض بھی شاندارطریقے سے انجام دیئے ۔سرکاری دفاتر اور عوامی حلقوں میں گوجر ی زبان بولنے کا رواج انہوں نے ہی عام کیا ۔ گجر بکروال قبائل کو لسانی وثقافتی طور بیدارو متحد کیا۔ 
وائس چانسلر 
 مسعود چوہدری جوکہ دوران لازمت بہترین ایڈمنسٹریٹر، ماہر تعلیم، دانشوراور مفکر کے طور اپنی چھاپ عوامی حلقوں میں قائم کر چکے تھے، کو سال 2004کو اُس وقت کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعیدسربراہی والی مخلوط پی ڈی پی۔ کانگریس حکومت نے باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی کے بنیادی کام کے لئے پروجیکٹ افسر تعینات کیا ۔ انہوں نے ققصبہ راجوری سے کچھ دور ی پر واقع ایک پہاڑی جہاں جنگل تھا، کوایک شانداریونیورسٹی کی شکل دے دی ۔بعد ازاں اسی یونیورسٹی کے بانی وائس چانسلر بنے جس پر وہ سال2010تک فائض رہے۔باباغلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری سے اُن کی خدمات کے اعتراف میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی دی گئی۔ اُن کی حیات وخدمات پر عبدالغنی غیور اور ڈاکٹر شمس انجم کمال نے اُن کی سونح عمری ’ڈاکٹر مسعود احمد چوہدری: شخص شخصیت اور خدمات‘بھی تحریر کی ہے جس کا سال 2021کو ایک شاندار تقریب میں اجراءکیاگیاتھا اور اُسی روز مسعود چوہدری نے گرجر دیش چیرٹیبل ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ کی ذمہ داری چوہدری عبدلحمید کو سونپی تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات