اعلی نسبتوں کی امین ایک عظیم ہستی پروفيسر مفتی عبدالغنی ازہری
*اعلیٰ نسبتوں کی امین ایک عظیم ہستی*
*حضرت علامہ مفتی ڈاکٹر عبدالغنی ازہریؒ*
*یادرفتگاں : مقصوداحمدضیائی*
جان کر منجملہ خاصان میخانہ تجھے
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
برصغیرہند و پاک آج سے پچھتر سال قبل ایک ہی ملک تھا ؛ یہاں ایسے ایسے بندگانِ خدا پیدا ہوئے ہیں کہ جن سے اس عظیم ملک میں بزرگوں کا ایک عظیم سلسلہ قائم ہوا ؛ جن کے اخلاص و عمل راہِ خدا میں قربانی ، ذاتی زندگی میں تقویٰ و احتیاط اور خشیت الٰہی کے حالات اور واقعات خود ان کے زمانوں میں اور بعد میں آنے والے وقتوں میں مردِ مومن کی زندگی کا اسوہ بنے اور اس ربانی سلسلہ کی برکت سے سب کو فیض پہنچا اور پہونچ رہا ہے چنانچہ اسی کہکشانی سلسلہ کی ایک اہم کڑی حضرت اقدس مولانا مفتی پروفیسر ڈاکٹر عبدالغنی الشاشی الشافعی المظاہری القاسمی الازہری صاحب رحمتہ اللّٰہ علیہ تھے۔ حضرت رحمتہ اللّٰہ علیہ کا تعلق جموں و کشمیر کے خطہ پیرپنجال کے ضلع پونچھ کی تحصیل مہنڈر کے دور افتادہ گاؤں گورسائی سے تھا ، خطہ جنت نظیر وادئ کشمیر جمال فطرت کا ایک خاص عطیہ ہے ، اس خطہ کی انفرادیت و اختصاص اس حوالے سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ اس جنت نظیر خطہ نے ایسے ایسے جید باوقار و باکمال ، علماء و صلحاء پیدا کیے ہیں ، جن کی نظیر تاریخ عالم میں خال خال ہی نظر آتی ہے ، غرض کہ اس سر زمین سے تعلق رکھنے والے بے شمار افراد ایسے ہیں کہ جنہوں نے مختلف میدانوں میں غیر معمولی خدمات کے ذریعہ ایک مسلسل تاریخ رقم کی ہے ، حضرت العلام مفتی عبدالغنی ازہری قدس سرہ کا شمار بلاشبہ یہاں کی تعمیری فکر کی حامل شخصیات میں ہوتا ہے آپ کی شخصیت اور خدمات کے مختلف اور نوع بہ نوع پہلو ہیں اور ہر پہلو کی اپنی جامعیت اور وسعت ہے اور اس اعتبار سے ہر پہلو اس بات کا متقاضی ہے کہ اس پر شرح و بسط کے ساتھ روشنی ڈالی جائے جو اس مختصر سی تحریر میں ممکن نہیں آپ کے تلامذہ اور متعلقین و منتسبین میں باکمال لوگوں کی کمی نہیں ہے وہ اس حوالے سے بہتر کام کرسکتے ہیں اور یقینًا کریں گے بھی ۔ ان شاء اللّٰہ … تاہم بعض خصوصیات بطور تعارفی خاکہ بحیثیت ایک عقیدت مند زیر قلم لانا اپنا حق سمجھتا ہوں ؛ جن سے آنے والی نسلوں کو فکر و عمل کو ہموار کرنے میں مدد ملتی رہے گی۔ چنانچہ آزاد دائرة المعارف کے مطابق آپ کی پیدائش 1922ء پونچھ ، جموں و کشمیر برطانوی ہند میں ہوئی اور وفات 19/جنوری 2023ء (کل عمر 100 سال ) سہارنپور ، اترپردیش ، بھارت میں پائی۔ آپ کے اکثر متعلقین کا کہنا ہے کہ حضرت والا کی عمر 120 سال سے متجاوز تھی اس میں اسفار و بیانات اور دینی خدمات کا سلسلہ بدستور جاری تھا آپ کی نظر تاریخ و حدیث پر بہت گہری و مضبوط تھی اور اس سلسلے میں آپ کی تصنیفات کردہ گجر قوم کی تاریخ پر " قدیم تاریخ گجر" نامی کتاب ایک سند کی حیثیت رکھتی ہے ، تذکرہ نگاروں کے مطابق حضرت مفتی عبدالغنی ازہری صاحبؒ اپنے دادا محترم حضرت عبدالحلیم صاحبؒ کے صحبت یافتہ ، لارہور یونیورسٹی سے فضیلت کا امتحان پاس کیے ہوئے ، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللّٰہ خانؒ سے کلام اللٰہ پڑھے ہوئے ، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ سے علم تفسیر سیکھے ہوئے ، مظاہرعلوم سہارنپور کی تحصیل کے بعد ام المدارس دارالعلوم دیوبند سے دورہ حدیث و افتاء کیے ہوئے ، جامعتہ الازہر قاہرہ مصر سے پی ، ایچ ، ڈی ، کرنے والے ، تصوف و سلوک میں آپ کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ سے خلافت حاصل تھی اور حضرت رائے پوری قدس سرہ سے بھی فیض تربیت حاصل تھا ، اکثر فقہی مسائل میں آپ حضرت امام شافعی کے مقلد تھے ، شیخ الادب حضرت مولانا اعزازعلی امروہیؒ کے شاگرد خاص ، حضرت العلام ابراہیم بلیاویؒ جامع المنقولات والمعقولات و مدرس صحیح مسلم کے ہونہار شاگرد اور خلیفہ و مجاز ، مولانا ابوالکلام آزادؒ سے سیاسی شعور اور فکر ملت کا ورثہ پانے والے ، یونیورسٹی آف کشمیر کے پروفیسر اور شعبہ عربی کے ایچ ۔ او ۔ ڈی ۔ آپ کی سرپرستی میں بے شمار ادارے مصروف کار ہیں ، حضرت مولانا مفتی عبدالغنی ازہری صاحبؒ کا سانحہ ارتحال ایک علمی عہد کا خاتمہ ہے ، آپ نے پونچھ کے مہنڈر جیسے دور افتادہ علاقہ سے اٹھ کر اعلٰی سطح پر جو علمی مقام حاصل کیا وہ محض اللّٰہ رب العزت کا آپ پر فضل اور انتخاب تھا ، آپ نے اتر پردیش کے ضلع سہارنپور کے بادشاہی باغ میں عظیم الشان دارالعلوم قائم کیا ، جہاں آپ شیخ الحدیث کے منصب پر فائز تھے اور آخری سانس بھی سہارنپور میں ہی لی ، آپ کی صدی پر مشتمل طویل علمی و دینی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ چنانچہ اس بندہ ہیچمداں کی دانست میں حضرت والا قدس سرہ کی دو بار خطہ کی معروف قدیم دانش گاہ مادر علمی جامعہ ضیاء العلوم پونچھ میں تشریف آوری ہوئی ، ایک بار حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوریؒ نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند و صدر تحفظ ختم نبوت کی زیر صدارت جامعہ میں سہ روزہ تحفظ ختم نبوت کا پروگرام منعقد ہوا ، اس موقع پر آپ کی تشریف آوری ہوئی ، حضرت والا کا قیام جامعہ کی شاہ ولی اللّٰہ منزل میں رہا ، یہ عاجز حضرت قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوریؒ کی خدمت پر مامور تھا ، جوں جوں موقع ملتا حضرت مفتی صاحبؒ کی خدمت میں بھی حاضری کی سعادت رہتی ، رہی بات استفادے کی کہتے ہیں کہ ذی استعداد استاذ کے درس میں کمزور طالب علم کی پٹائی ہو جاتی ہے چونکہ استاذ کے علوم بہت زیادہ ہوتے ہیں اور طالب علم کی استعداد کمزور ہوتی ہے۔ لہذا اکثر باتیں سر سے گذر جایا کرتی ہیں ، یہ کہنا بجا ہوگا کہ حضرت والا کی مجلس میں کچھ ایسا ہی ہمارا حال رہا۔ جتنی دیر جامعہ میں قیام پذیر رہے لوگوں کا ہجوم بھی خوب رہا ، نماز جمعہ آپ نے قدیم جامع مسجد بگیالاں کے صحن میں ادا کی ، پروگرام کے دوران ایک نشست میں حضرت والا کا بیان بھی ہوا ، روبرو سماعت کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی ، جامعہ کے بعد دارالعلوم محمودیہ مہنڈر میں پروگرام کا انعقاد ہوا ، صدارت محسن قوم و ملت و استاذ العصر حضرت مولانا غلام قادرصاحب مدظلہ العالی بانی و مہتمم جامعہ ضیاء العلوم پونچھ کی رکھی گئی تھی اور دوسرے روز تحفظ ختم نبوت کا اجلاس مدرستہ التوحید و جامع مسجد تھنہ منڈی (راجوری) میں منعقد ہوا ، اس موقع پر اکابر اور ارباب علم و فضل کی کہکشاں جلوہ گر رہی ، ایسے مواقع اہل علم سے استفادہ کے لحاظ سے انعام خداوندی ہوا کرتے ہیں ؛ ہرگز گنوانے نہیں چاہیئں ؛ دوسری مرتبہ جب آپ جامعہ ضیاء العلوم میں تشریف لائے تو جامع مسجد بگیالاں میں اساتذہ و طلبہ کے مابین نشست رہی ، مجھے یاد آرہا ہے کہ لگ بھگ بیس منٹ آپ نے ایک تاریخی نکتہ کو نہایت مدلل اور علمی انداز میں اس تسلسل کے ساتھ بیان فرمایا کہ مجمع عش عش کر اٹھا ، اب افسوس ہوتا ہے کاش ! ان انمول موتیوں کی ریکارڈنگ کرلی ہوتی۔ خاص بات یہ کہ اس سال جامعہ سے فراغت پانے والے دورہ حدیث شریف کے طلبہ کی طرف سے سالانہ ڈائری بنام " چشمہ حکمت " منظر عام پر آئی تھی ، مفتی عبدالرحیم ضیائی قاسمی صاحب جو اب مدرستہ التوحید تھنہ منڈی (راجوری) کے مہتمم ہیں اُس وقت اپنی جماعت کے ترجمان بھی تھے اور اپنی صلاحیت و صالحیت کی وجہ سے سب کے منظور نظر بھی ، کتاب کی ترتیب میں ان کی کوششوں کا بڑا دخل رہا انہوں نے اچھا کردار ادا کیا تھا ، کتاب کی رونمائی حضرت العلام کے ہاتھوں ہوئی اور آپ ہی کی رقت آمیز دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی تھی ۔ حضرت والا کا یہ سفر اترپردیش سے ہی بذریعہ مہندرہ جیپ ہوا تھا ، جس کے آگے غالباً " مدرسہ نظامیہ " کا بورڈ لگا ہوا تھا واپسی کے وقت ہسپتال روڈ سے گذرتے ہوئے گاڑی کے اندر سے مخلصم حضرت مولانا فتح محمد صاحب مدظلہ بانی و مہتمم دارالعلوم محمودیہ مہنڈر و سنئیر نائب صدر تنظیم علماء اہل السنت والجماعت پونچھ کی نگاہ عاجز پر پڑی آں موصوف نے مکرر ملاقات کرا دی ، حضرت والا سے دعاؤں کی درخواست کا اچھا موقع مل گیا قلبی خوشی ہوئی اور مولانا فتح محمد صاحب کے لیے دل سے دعائیں نکلیں۔ خدا کرے مولانا کا گلشن حیات لہلہاتا ہی رہے۔ ورنہ ؎
کہاں میں اور کہاں یہ نکہت گل
نسیم صبح تیری مہربانی
یادش بخیر! یہ تھے آج سے کئی سال پہلے کے مدہم نقوش! جو یادوں کی وادی سے نکل کر زیب قرطاس ہوگئے ہیں ۔ مختصر یہ کہ دنیا رفتہ رفتہ ارباب علم و تقویٰ سے خالی ہوتی جا رہی ہے ، ماضی قریب میں ہمارے ہاتھوں سے رہا سہا ذخیرہ بھی جاتا رہا اور ہم تہی دست ہوگئے ، جس پر جتنا بھی غم کیا جائے وہ کم ہے ، موت برحق ہے لہذا وقت مقررہ پر سبھی کو جانا ہی ہے ، باقی رہنے والی ذات تو صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ہی ہے ، جس پر کبھی فنائیت طاری نہیں ہوسکتی ، حضرت مفتی صاحب بھی صدی پر محیط عمر میں ملت کو فیوض و برکات سے مالا مال فرما کر اپنے پروردگار سے جاملے۔؎
ذھب الذین یعاش فی اکنافھم
بقی الذین حیوتھم لاتنفع
*آخری بات :* حضرت مفتی عبدالغنی ازہری صاحبؒ کی رحلت سے علمی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے وقت گزرتے گزرتے اس کا شدت سے احساس بڑھے گا۔ بلاشبہ آپ اپنے اخلاف کے لیے ایسے نمونے چھوڑگئے ہیں جن کو اپنا کر ہر فرد بشر اپنی آخرت سنوار سکتا ہے۔ ہم خوش قسمت تھے جو کردارو اخلاق کی ایسی مثالیں اپنی آنکھوں سے دیکھنے کو ملیں ایسی مثالیں ہی کانٹوں بھری راہوں میں چلنا آسان کر دیتی ہیں آپ کا اختصاص یہ بھی تھا کہ آپ دینی حمیت رکھنے والے شخص تھے یہی وجہ ہے کہ آپ امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور سنت کے احیاء کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے تھے ، حضرت والا تو تشریف لے گئے لیکن ان کے انوار و برکات سے تابناکی ملتی رہے گی۔؎
نہیں ہے پیر میخانہ مگر فیضان باقی ہے
ابھی تک میکدہ سےبوئےعرفانی نہیں جاتی
اللّٰہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہم اخلاف کو بھی اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے اور حضرتؒ کے درجات بلند فرمائے حسنات و خدمات کو شرف قبولیت بخشے ملت کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے اہل خانہ و لواحقین کو صبر و حوصلہ عطا فرمائے۔ آمین
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*حافظ مقصود احمد ضیاٸی
خادم التدریس جامعہ ضیاء العلوم پونچھ*
*جموں و کشمیر الہند*
Comments
Post a Comment