رانا فضل حسین کی شاعری
رانا فضل حسین گوجری کے صاحبِ اُسلوب شاعر
تحقیق و تبصرہ از غنی غیور
اپنی گوگی ہر کوئے سیکے
لالچ کو تندور بھکھا کے
تُوں ہوراں کی لو بن لِشکے
دل کا ساڑ انگارا کر
رانا فضل حسین
ترجمہ
لالچ کا تندور گرم کرکے اپنی روٹی ہر کوئی سینکتا ہے لیکن تو اپنے دل کو دہکتے انگاروں کی طرح جلا جلا کر دوسروں کے لئے فروزاں ہونا ۔
شعر
گنڈھن کدے نہ ہوئی مُڑ کے
بیل ٹُٹی وی پیار کا پھل کی
ترجمہ
پیار محبت کے بیل سے جب پھل ٹوٹ کر جدا ہوجاتا ہے تو وہ اُس بیل سے دوبارہ کبھی نہیں جڑ سکتا ۔
رانا فضل پڑوڑی درہال سے ہجرت کرگئے لیکن دل سے انہوں نے اپنے علاقہ کو نہیں بھلایا انکے اشعار گیتوں اور نظموں میں کشمیر کے قدرتی مناظر اور آبشاروں کی جھلکیاں رواں دواں دکھائی دیتی ہیں
انہوں نے ایمانداری سے اپنے فن کے ماخذات کی نشاندہی کردی ہے انکی شاعری ،میاں محمد بخش صاحب رح کی زمینوں سے حیات بخش رس لیتی ہے
ایک شعر
میاں محمد کی زمیاں ماں پیار کا پندا لگیں
لار کا پانی منگلے آکے باغ میرا ناں سگیں
رانا فضل غزل کے بجائے نظم اور گیت کے میدانوں کی شہسوار ہیں انکے گیتوں ساون کی پھوار میں پڑی ہوئی دھنک جیسے خوشنما ہیں انکے کلام میں دھنک کے رنگ، اور خوشبوؤں کے پیرہن بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں رانا فضل حسین کی شاعری منفرد اسلوب کی آئینہ دار ہے
رانا فضل حسین عشق خدا اور عشق رسول سے سرشار نظر آتے ہیں
نعت کا ایک شعر دیکھیں
تھارا ناں کی خوشبو سارے اللہ نے مہکائی
عرشیں فرشیں تے اسمانے رہ ہبکار محمد
ترجمہ
اے نبی مکرم اللہ تعالی نے آپ کے نام کی خوشبو سے عرش و فرش اور سماوات معطر کر دیے ہیں
گلِ وحدت کے تصور میں ڈوبتے ہی رانا فضل حسین کے دل و دماغ گل و گلزار کی طرح مہکنے لگتے ہیں اور وہ ماسوا سب کچھ بھول جاتے ہیں انکے بعض گیت مشہور عوامی گیتوں کے مصرعوں اور مضامین کے حامل ہیں۔
"کنگناں گوری دیا بنی ہے مجول"
سے کنگناں رے گوری کیا بنی ہے مجول
اسی طرح کاگ کے گیت ہندی پنجابی میں صدیوں پہلے سے رائج ہیں
میرا بائی ملک محمد جائیسی بابا فرید نے کوے پر لافانی دوہے اور اشعار کہے ہیں :
کاگا سب تن کھائیو چُن چُن کھائیو ماس
دونیناں مت کھائیو ، پیاملن کی آس
Kaga sab tan khaiyo chun chun khaiyo maas, do naina mat khaiyo mohe piya ke milan ki aas.'
पिय सौं कहेहु सँदेसड़ा, ऐ भँवरा ऐ काग।
सो धनि बिरहें जरि मुई, तेहिक धुआँ हम लाग।
پی سے کہیو سندیسوا اے بھونرا اے کاگ
سو دھن بِہیں جر موئی، جِہِکْ دھواں ہم لاگ
ملک محمد جائسی
ترجمہ
میرے معشوق سے کہنا کہ تیری نئی نویلی دلہن فراق کی چتا میں جل کر مر گئی ہے اسکی لپٹوں کے ساتھ نکلتا دھواں ہمیں لگا اور ہمارے بال و پر بھی کالے ہوگئے ہیں ۔
پنجابی میں گھڑے کے گیت مشہور ہیں اور تاریخی عشقیہ کہانی سوہنی ماہیوال سے جڑا ہے
مینوں پار لنگاہ دے وے
گھڑیا منتاں تیریاں کردی۔۔
یا پھر ایک لافانی پنجابی گیت
پار چناں دے دِسّے کُلی یار دی
گھڑیا گھڑیا، آوے گھڑیا
رات ہنیری ندی ٹھا ٹھاں مار دی
اڑیئے اڑیئے ہاں نی اڑیئے
کچّی میری مِٹی کچّا میرا نام نی
ہاں میں ناکام نی
کچّیاں دا ہوندا کچّا انجام نی
اے گل آم نی
کچّیاں تے رکھیے نہ اُمید پار دی
اڑیئے اڑیئے ہاں نی اڑیئے
رات ہنیری ندی ٹھا ٹھاں مار دی
اڑیئے اڑیئے ہاں نی اڑیئے
رانا فضل حسین نے انہی گیتوں کے تتبع میں کچھ اچھے گئت گوجری لہجہ و آہنگ میں سپرد ولم کئے ہیں ۔
کائے گل امڑی کی دس گھڑیا
فر پانی بھرتا ہس گھڑیا
دو کنگن پے گئیا باہنیاں ماں
ہُن بسنو پئیو پرایاں ماں
کجہ لوکاں بے از مایاں ماں
مت کھوہری بولے سس گھڑیا
کائے گل امڑی کی دس گھڑیا
فر پانی بھرتا ہس گھڑیا
رانا فضل حسین کا اچھا گیت ہے
میریا محرم محرم گھڑیا رے
کدے ڈھاک کدے سِر چڑھیا رے
کے بند بھی کامیاب معلوم ہوتے ہیں
بہلو اُڈ جائیے توں چٹیا کبوترا
کہئیے میرا چن ناں ملیا تیرا چبوترا
۔۔۔
یہ گیت سوز و درد میں ڈوبے ہوئے ہلکے پھلکے بول ہیں کہیں کہیں ان میں کوئی گہری رمز بھی مل ہی جاتی ہے
ایسے ہی کچھ گیت برائے طبع تفنن لکھے ہیں
گھوڑی چڑھ آیو رے جی لاڑیا
۔۔۔
پنچھیا، مہندی سینکڑوں گیت لکھے ہیں
رانا فضل حسین کا ایک مشہور گیت:
او سوہنا کشمیر کی مکھیئے رے
کے پھرتی پردیسن لوڑے
پُھلّاں کی ہر ڈوڈی توڑے
سدھراں کی باساں ناں سونگھے
پُھلیں پھرے مکھیر کی مکھیئے رے
بُھن بُھن کرتی دُکھڑا جُھنکے
پیر پنجال کی ماہلیں بُھنکے
چن کی چٹیاں چاننیاں ماں
برف نرول خمیر کی مکھیئے
رانا فضل حسین کے گیت ایک اعتبار سے گوجری ثقافت اور رسمیات کی اصطلاحات سے بھرے پڑے ہیں گجر پہاڑوں اور سبزہ زاروں پر رہتے ہیں انکا رشتہ پرندوں کے ساتھ استوار چلا آیا ہے یہی وجہہ ہے کہ کوا کبوتر ککو پکھنو وغیرہ انکے احوال و کوائف کے نامہ بر بن جاتے ہیں
انکے ایک گیت میں رانگلی مدھانی کا ذکر ہے چاٹی چلہونگے اکرانی وغیرہ ٹھیٹھ الفاظ ہےں اکرانی یعنی چاٹی کو مانجھ کر جڑی کا دھواں لگانے کے عمل سے اس سے دہی کی کھٹاس کی بو دور ہوجاتی ہے
رانگھلیہے دودھ رِڑھک مدھانی
مکّھن سجرو منگے ہانی
مغری چاٹی دھوئے گوری
کوچے بھانڈا چاہڑھ اکرانی
۔۔۔۔
الہڑ دوشیزہ کے حسن کی تعریف کرتے ہیں مگر محتاط انداز میں :
حسن چِٹّو مکھناں کو پیڑو
بھر کے نظر تکّے گو کہڑو
سُچّو روپ تیرو گُجرانی۔۔۔
رکھیئے ری بے داغ جوانی
ترجمہ
تیرا گورا تن بدن مکھن کا پیڑا ہے کس میں تاب ہے کہ تجھے نظر بھر کر دیکھ سکے؟
اے گُجرانی تیرا حسن فطری اور اصلی ہے یعنی مصنوعی آرائش کا محتاج نہیں
اری او بی! اس تن بدن کو داغ نہ لگے۔
@@@
رانا فضل حسین کی بانپھل بانپھل پانی گوجری شاعری کی اچھی کتاب ہے جس میں نظمیں غزلیں شامل ہیں رانا فضل حسین کی غزلوں اور نظموں میں خاص فرق نہیں ہوتا الفاظ کے انتخاب میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے رانا فضل حسین کی اکثر شاعری عقیدتی نوعیت کی ہے
گیت اور نظمیں خوب کہے ہیں
نظموں میں " او جانو" جو مزدور یا کسان کے بارہ میں پُردرد نظم ہے ایسے ہی پیر پنجال نظم میں منظر کشی مثالی ہے رانا فضل حسین کی کریفٹ منفرد ہے لیکن بلند خیالی اور جذبۂ عقیدت اوج پر ہے البتہ دانشورانہ شعر شاذ و نادر ہی کہتے ہیں
ایک مشہور مسلسل غزل یا نظم
اپنی گوگی ہر کوئے سیکے
اپنی گوگی ہر کوئے سیکے ،
ہوراں کا چارا کر
کھوہری اکّھیں جے کوئے دیکھے
اس کی گھور گوارا کر
بے مہراں کی اس بستی ماں
سِر سٹ کے جینو سنگیا
اپنا درد پھلور نہ دسیئے
سب کادرد پیارا کر
اس نگری ماں کون کسے کو
کس نا سُجّھے پیڑ پرائی
غرض کا سجن ٹوہ ٹوہ ڈٹّھا
جاتا تکیس لارا کر
اپنی گوگی ہر کوئے سیکے
لالچ کو تندور بھکھا کے
تُوں ہوراں کی لو بن لِشکے
دل کا ساڑ انگارا کر
اج آوت کل جاوت ہونی، سکھنے ہتھیں جانوْ رے
دولت کو نہ بندو بنئے، قضیاں نال گزارا کر
پتر پئی ےریل حیاتی ساہ
آیا کو فر بسا کے
جوبن حُسَن تے روپ رنگاں ور
مان بھی ایڈ نہ یارا کر
غزل کے اشعار:
گنڈھن کدے نہ ہوئی مُڑ کے
بیل ٹُٹی وی پیار کا پھل کی
تتے جبّڑ سٹّی کس نے،
مچّھی نیل سراں کی
لوڑ لکاڑ کی پوتھی تکّی میں
لکھیا درد کا اکّھر کالا مُکتا نہیں
کورا کَگَرْ برف گلے تے بانپھل نچڑیں
دو اکّھاں کا بگتا نالا مُکتا نہیں
رانا فضل حسین
Comments
Post a Comment