Mughal Road مغل شاہراہ
مغل روڑ کا مختصر تاریخی پس منظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہیں کہ جلال الدین اکبر بادشاہ کے زمانہ سے مغل بادشاہ لاہورسے براستہ چہنگڑ نوشہرہ سے ہوتے ہوۓ راجوری تھنہ منڈی سے کراس ہو کر دہرہ کی گلی سرنکوٹ بفلیاز سے نور چھم بہرام گلہ سے گذر کر پیر کی گلی سے کشمیر کی طرف جاتے تھے ان کے راستہ میں سراۓ بناٸی گیٸں تھیں جہاں یہ قافلے رُکتے تھے جیسے سراۓ نوشہرہ سراۓ چنگس اور سراۓ تھنہ منڈی راجوری اس کے علاوہ چندی مڑہ بفلیاز کے مقام پر چھوٹے چھوٹے مڑ بناٸے گٸے تھے جن میں یہ رکتے تھے یہ مَڑ فوجی مورچہ کی شکل کے تھے بہرام گلہ کے مقام پر پانی کا ایک بہترین چھم ( آبشار) ہے جس کے اوپر پھتر میں ایک شیشہ نصب تھا جہاں ملکہ نور جان جہانگیر کی بیگم غصل کر کے اپنے بالوں کو اس شیشہ کے سامنے بیٹھ کر کنگی کیا کرتی تھی اور اسی وجہ سے اس چھم کا نام نوری چھم پڑ گیا ۔ 28 اکتوبر 1627عسوی کو جب ان کا قافلہ نوری چھم پہنچا تو وہاں جہانگیر بادشاہ کی حرکتِ قلب بند ہونے سے موت واقع ہو گٸی تو ملکہ نور جہان نے بہانہ کیا کہ بادشاہ سلامت کی طبعیت نا ساز ہو گٸ ہے ہمیں واپس لاہور چلنا ہے انہوں نے جہانگير بادشاہ کی لاش چکوا لی اور کسی کو موت کی خبر نہ دی ما سواۓ اپنے راز داروں کے رات کو نوشہرہ کے قلعہ میں قیام کیا جسے اب چِنگس کا قلعہ کہتے ہیں تو لاش سے بو آنے لگی تو ملکہ نے ماہر ڈاکٹر منگوا کے راز داری سے بادشاہ کی آنتڑیاں نکال کر قعلہ میں دفن کر کے جنازہ اُٹھوا لیا اور دو تین روز کا اور سفر طے کر کے لاہو پہنچ کر حکومت سنمبھالنے کے بعد اعلان کیا کہ بادشاہ سلامت فوت ہو چکے ہیں اور اسطرح جہانگير بادشاہ کو شاہ درہ کے مقبرہ میں دفن کیا گیا پھر دوسری بار نوشہرہ راجوری پہنچ کر اس قلعے کے اندر آنتڑیوں پر ایک چھوٹا سا مقبرہ بنوایا اس کے بعد اس قعلہ کام چنِگس پڑ گیا کیوں کہ فارسی میں چِنگس آنتڑی کو کہتے ہیں ۔
یہ سلسلہ اکبر کے زمانے سے جاری تھا لاہور سے کشمیر آنا ۔پیر گلی کراس کر کے کشمیر کی طرف ڈونگی مرگ میں ایک سراۓ موجو ہے جسے علی آباد کی سراۓ کہتے ہیں اس کے آ گے ایک دشوار راستہ بنایا گیا تھا جہاں لال پیسے کے اوپر تہہ لگا کر ایک پہڑہ بنایا گیا تھا جسے اکبر کے ایک غلام نے بنایا تھا جس کا نام لال غلام تھا اسی کے نام پر یہ لال غلام کا پہڑہ ا بنایا گیا ہے وہاں ایک گھنٹے کا سفر کر کے آگے ایک سراۓ آتی ہے جسے سُکھاں کی سراۓ کہتے ہیں اس سے آگے دُنجن کی ڈھوک آجاتی ہے کشمیر کے شوپیاں ضلع میں پھر ہیر پور سے ہوتے ہوۓ یہ راستہ شوپیاں ضلع پہنچ جاتا ہے ۔۔۔
اس کے بعد اس راستہ پر سڑک بنانے کی بات آٸی تو خطہ پیر پنچال کے لوگوں اور لیڈروں میں یہ شعور بیدار ہوا اور مانگ ہونے لگی ۔پھر جب سن 1983 میں چوہدری محمد اسلم صاحب یہاں سے ایم ایل اے بنے سرنکوٹ سے تو انہوں نے چودہ کروڑ روپیہ اس کیلٸے منظور کروایا اور یہ سڑک بفلیاز سے چندی مڑہ تک بنی اور چوہدری طالب حسین راجوروی نے بطور تعمیرات وزیر اس کا افتتاح کیا۔پھر سرکاریں آتی رہیں اور جاتی رہیں کوٸی توّجہ نہ ہوٸی اس کے بعد جب سن 2002 میں مفتی محمد سعید اور غلام نبی آزاد کی کولیشن سر کار بنی ریاست میں اور چوہدری محمد اسلم مرحوم راجیہ سبھا منمبر بناۓ گے تو سال 2005 میں شدید برف باری ہوٸی اور جموں سرینگر سڑک کو کافی نقصان ہو اور برف کے نیچے والٹنگو ناڑ جیسے گاٶں دب گٸے تو چوہدری محمداسلم صاحب نے غلام نبی آزاد صاحب کے تعاون سے ملک کی پارلیمنٹ سے اس سڑک کا پروجیکٹ منظور کروایا اور اس وقت کے صدر آنجہانی اے پی جے عبدالکلام صاحب نے پارلیمنٹ کےسرماٸی اجلاس میں صدارتی خطبہ دیتے ہوۓ یہ اعلان کیا کہ ہم جموں کو کشمیروادی سے جوڑنے والی ایک متبادل سڑک تعمیر کرنے جا رہے ہیں جسے مغل روڑ کہتے ہیں اسطرح یہ پروجیکٹ منظور ہوکے اس کا کا م شروع ہوا مفتی محمد سعید صاحب جو اس وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے اور ساتھ میں غلام نبی آزاد صاحب جو سنٹر گورنمنٹ میں مرکزی وزیر تھے اور چوہدری محمد اسلم صاحب نے ایک ساتھ آ کر بفلیاز سے اس سڑک کا ربن کاٹ کر نیم پتھر رکھا اسطرح سال 2009 اور سال 2010 میں اس سڑک پر گاڑیاں چلنا شروع ہو گیں اور 2 دسنمبر 2010 کوپیِر طریقت حضرت میاں بشیر احمد لاروی رح نے اس سڑک سے پہلی بار سفر کیا اور دعا فرماٸی جہاں پیر گلی کے مقام پر انہیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے تقریباً دوہزار گاڑیوں کے قافلہ کے ساتھ استقبال کیا اور میاں صاحب وہاں سے آ کر لسانہ چوہدری محمداسلم صاحب کے گھر رُکے اور اس کے بعد سردیاں گزارنے جموں چلے گٸے۔۔۔اسطرح مغل روڑ اپنے پایا ۓ تکمیل تک تو پہنچی مگر سردیوں کے پانچ مہینے بند رہتی ہے جس پر ابھی ایک ٹنل یعنی سرنگ بنا کر پورے سال گاڑیوں کی آمد و رفت کے قابل بنانے کی اشّد ضرورت ہے ٹنل کی مانگ ہنوز جاری ہے
تحریر عطا ٕ اللہ شادّ
Comments
Post a Comment