قراقلی ٹوپی

قراقلی ٹوپی 
اس قسم کی ٹوپی کا نام تو آپ نے سنا ہو گا ۔قراقل کا لفظی مطلب کالی اون ہے۔ جو کہ ترک زبان کا لفظ ہے۔اون کی وہ قسم جس سے یہ ٹوپی تیار کی جاتی ہے عرف عام میں استر، استرخان، براڈ ٹیل، قاراقولچا یا ایرانی مینڈھا کہلاتی ہے۔ 
کراکل یا قراقل دراصل وسطی ایشیا کے صحرائی علاقوں میں پائی  جانے والی ایک بھیڑ کی نسل کا نام ہے۔ اس بھیڑ کو یہ نام ازبکستان کے صوبہ بخارا کے ایک شہر قوراکول سے نسبت کے طور پر دیا گیا ہے۔اس بھیڑ کے نوزائیدہ بچے کی کھال سے تیار کی جانے والے ٹوپی قراقلی کہلاتی ہے۔  
قراقلی عام طور پر وسط ایشیاء اور جنوبی ایشیاء کے مسلمان مرد پہنتے ہیں۔محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق قراکل بیھڑ  کا 1400قبل مسیح سے معرض الوجود ہے قراقل بیھڑ سخت سے سخت موسمی حالات میں جینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔یہ ریگستان میں بھی زندہ رہ سکتی ہے اس کے دم کے نیچے Fats جمع کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے  آج کے وقت میں یہ بیھڑ endangered تصور کی جاتی ہے 
قراقلی پہننے والے اکثر افراد یہ نہیں جانتے کہ اس ٹوپی کو بنانے کے لئے کیسا طریقہ اختیار کیا جاتا ہےقراقلی نارمل طریقے سے تازہ پیدائشی بھیڑ کے بچے یعنی پیدا ہوتے ہی اس کی کھال اتار کر تیار کی جاتی ہے ۔
نوزائیدہ قراقل کی کھال سے ٹوپی تیار کرنے کہ وجہ یہ ہے کہ اس کی کھال پر بال سیدھے نہیں بلکہ سخت گھنگریالے ہوتے ہیں جو ایک خاص طرح کا ڈیزائن یا پیٹرن لئے ہوتے ہیں۔ اس ایک گھنگریالے لچھے کی پھول یا کلی نما ساخت ہوتی ہے۔ جبکہ ایک خاص قسم کی قراقلی حاصل کرنے کیلئے حاملہ بھیڑ کو قبل از وقت بچے کی پیدائش پر مجبور کیا جاتا ہے عموما” شکاری کتے اس کے پیچھے دوڑا کر اسے تیز دوڑنے پر مجبور کیا جاتا ہے . تیز دوڑنے اور کتوں سے خوفزدگی کی وجہ سے بھیڑ بچے کو جنم دے دیتی ہے . ایسے میں ماں کو نوزائیدہ بچے کو چاٹنے نہیں دیا جاتا کیونکہ پھر بچے کی کھال کا پھول کھل جاتا ہے اور قراقلی پر مخصوص ڈیزائن نہیں ابھرتا . نوزائیدہ بچے کو ذبح کردیا جاتا ہے اور اس کی کھال سے نہایت قیمتی قراقلی تیار کی جاتی ہے .
قراقلی کو کشمیر میں  شاہی ٹوپی سے بھی جانا جاتا ہے۔جس کے لئے عموما" یہ الفاظ بولے جاتے ہیں کہ 
Kashmiri Cap That Crowned World Leaders
کشمیری  روایات میں بعض ایسی چیزیں موجود ہیں جو دوسرے علاقوں سے آ کر ان کی ثقافت اور روایات کا اس طرح حصہ بن چکا ہے کہ کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا کہ یہ کوئی باہر سے آئی ہوئی روایت یا ثقافت ہے، ان میں ایک قراقلی ٹوپی بھی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وسطی ایشیائی ممالک سے افغانستان اور بعد میں متحدہ ہندوستان پہنچی۔ ایک زمانہ تھا ۔ایک وقت کشمیر میں قرا قلی پہننے کا رواج کافی زیادہ تھا۔ شادی کے مواقع پر دولہا بڑے شوق سے قراقلی پہنا کرتے تھے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عام طور قرا قلی پہننے کا رواج ختم ہوگیا۔قراقلی کبھی بھی سیدھی نہیں پہنی جاتی بلکہ ترچھی پہنتے ہیں
کچھ علماء اکرام نے قراقلی ٹوپی کی ممانعت مندرجہ ذیل نقاط کی وجہ سے کی ہے 
  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جانورں کے ساتھ حسن سلوک کی تاکید اور بدسلوکی کوعذاب وعقاب اور سزا کی وجہ گردانا او رانتہائی درجہ کی معصیت اور گناہ قرار دیا او رانسانی ضمیر جھنجوڑنے والے سخت الفاظ استعمال فرمائے؛ چنانچہ حضرت امام بخاری نے روایت نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ وہ بلی کو باندھ کر رکھتی تھی نہ کھلاتی نہ پلاتی اور نہ اس کو چھوڑ دیتی کہ چر چگ کر کھائے(مسلم : باب تحریم قتل الہرة : حدیث: ۵۹۸۹)
حضرت ابن ِعباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک گدھا گذرا ، جس کے منہ پر داغا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ کر فرمایا :اس شخص پر لعنت ہو جس نے اس کو داغا ہے(مسلم : باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ، حدیث:۵۶۷۴)
اور ایک روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرے پر مارنے اور داغنے سے منع فرمایا ہے(مسلم : باب النہی عن ضرب الحیوان فی وجہہ، حدیث:۵۶۷۴)ا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف یہ کہ گھریلو جانورں کے ساتھ بدسلوکی اوربے جا مارپیٹ کی ممانعت کی ؛ بلکہ غیر پالتو جانوروں کو بھی بے جاپریشان کرنے ، چھیڑ خوانی کو منع فرمایا :
حضرت ابنِ عباس سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایاہے(ترمذی : باب کراہیة التحریش بین البہائم : حدیث: ۱۷۰۹)حضرت عبدالرحمن بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا ایک مرتبہ ہم لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھے جب ایک موقع پر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے تو ہم نے ایک چڑیا کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچے تھے ہم نے ان دونوں بچوں کو پکڑ لیا ، اس کے بعد چڑیاآئی اور اپنے بچوں کی گرفتاری پر احتجاج کرنے لگی جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حمرہ کو اس طرح بیتاب دیکھا تو فرمایا کہ کس نے اس کے بچوں کو پکڑ کر اس کو مضطرب کر رکھا ہے؟ اس کے بچے اس کو واپس کردو(ابوداوٴد: باب فی کراہیة قتل الذر ، حدیث۵۲۶۸)
راقم یار علی خان کے۔اے۔ایس

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات