نسیم پونچھی از غیور سر
قسط اول
نسیم پونچھی گوجری کے بلند پایہ طنز و مزاح نگار
تبصرہ و تنقید از غنی غیور
"حیاتی جس پڑأ پر اندرو اندری ہسن لگی،میں اُن ہاساں ناں زمانہ کا بناوٹی بتھاڑاں پروں مٹّی گھروڑ کے کاغذ پر لِپ لیو۔ یاہ لپائی تمناں سجری دسے گی،یا بہیو سواد آوے گو، کوڑو، پھکّو، کھٹّو مِٹّھو۔۔کائے گل نہیں کہہ سکتو۔ سچ لکھتاں پیر کمّن لگیں، جھوٹھ لکھن کی جاچ ہی نہیں آئی۔ ۔۔۔میں بچھکارلی جوہ ما ڈھاری چاہڑی ہے۔
جوش بلنگز نے کے سوہنو نسخو دسیو ہے ۔"ہسن نال روگ کھسک نامو پڑھے، ڈاکٹراں کی گولیاں کے مقابلے مسکراہٹ بیماری نا گھٹ خرچہ پر اڈی کھوڑو مار کے پراں پٹاک چھوڑے۔۔ہسی مخول بدلو لین آلاں کولوں شاماں آلی سوٹیں کھس لے۔ ۔۔۔ ہسن ہسان ڈر تے خوف ناں بنگارے ۔ہاسو افسوساں نا دفنیرے، پریشانیاں تے دُکھاں کی نلڑی گھوٹے، تے غریبی کا ادھا بھار نا ساہوے۔۔۔ یاہ بے مُلی شے بُلارا پر سر بھار (دوڑتی ) آوے تے اپنے پچھے لشکارو چھوڑ جائے ۔یوہ پہلو تے آخری نور ہے جہڑو دل دماغ ور برہے۔"
اقتباس از جٹل ( پیش لفظ ) کھیچل
"زندگی جس پڑاؤ پر اندر ہی اندر ہنسنے لگی ہے۔ میں نے ان قہقہوں کو زمانہ کے مکھوٹے سے مٹی کُھرچ کر کاغذ پر لیپائی کرلی۔ چاہے تم کو تازہ دکھائی دے،یا باسی مزہ دے؛کڑوا پھیکا کھٹّا میٹھا۔۔۔ کچھ نہیں کہہ سکتا میں ۔سچائی لکھتے وقت پاؤں کانپتے ہیں اور جھوٹ بولنے کا تو ڈھنگ ہی نہیں آتا ۔میں نے درمیان کی جگہ جھونپڑی بنائی ہے۔
جوش بلنگز نے کیا ہی اچھا نسخہ بتایا ہے۔ ہنسنے سے روگ "کھسک نامہ "پڑھتے ہیں ۔ڈاکٹروں کی گولیوں کے مقابلہ میں مسکراہٹ کم خرچہ پر بیماری کو ایڑی مار کر گرا دیتی ہے۔ ہنسی مذاق بدلا لینے والوں کی جوڑ چوڑیاں اور سامیں چڑھی ہوئیں لاٹھیوں کوچھین لیتی ہے ۔
ہنسی مذاق، ڈر اور خوف کو بنکارتی ہے۔
ہنسی غموں کو کفناتی دفناتی ہے۔ پریشانیوں کی گردن دباتی ہےاور غربت و افلاس کے آدھے بوجھ کو سہتی ہے۔ یہ مفت شے ایک بار پکارنے پر دوڑ کر چلی آتی ہے ۔اور اپنا بھرپور جلوہ دکھاتی ہے ۔ یہ پہلا اور آخری نور ہے جو دل دماغ پر برستا ہے ۔"
ترجمہ از راقم
نسیم پونچھی ( بی اے آنرز ) گوجری کے بلند پایہ نثار ہیں۔ مرحوم نے گوجری نثر کا جو معیار قائم کیا،ویسی نثر لکھنا محال تو نہیں البتہ دشوار ضرور ہے ۔ نسیم پونچھی نے ۱۹۶۲/۶۳ عیسوی میں بی اے آنرز کی ۔ ان دنوں مسعود چودھری اور نسیم جیسے پڑھے لکھے گوجر نوجوانوں کا قحط تھا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ نسیم پونچھی قلم کے دھنی ہیں ۔ ریاست جموں و کشمیر کی کلچرل اکیڈمی کے گوجری wing کے پہلے باقاعدہ اڈیٹر بھی رہے ۔ غالباًنسیم پونچھی کی صحبتِ اکثیر نے اقبال عظیم پونچھی کو ریڈیو سٹیشن سے اکیڈمی جائن کرنے پر آمادہ کیا ۔ اقبال عظیم چودھری کی تعلیم فقط میٹرک تھی لیکن بلا کے ذہین تھے ۔نثر کم ہی لکھی ان کے فقط چار پانچ افسانے ہمیں ملے ہیں ۔البتہ شعرو شاعری اور خطابت و تقریرمیں اپنی مثال آپ تھے ۔نسیم پونچھی شاعری اور نثر دونوں اصناف میں یگانہ ہیں ۔ کچھ انشائیے ۱۹۸۵ عیسوی کے آس پاس میں نے نسیم پونچھی کی زبان سے سنے تھے ۔ اُس کے بعد یہ انشائیے ۲۰۱۱ء تک غالباً نسیم پونچھی یا کلچرل اکیڈمی کی تحویل میں رہے۔ ان میں سے اکا دُکا انشائیے مثلاً سوٹی وغیرہ گوجری شیزاہ کے پرچوں میں چھپے ہیں ۔ آخر ۱۰۱۲ ء میں انشائیوں پر مشتمل "کھیچل" نام سے یہ کتاب منظرِ عام پر آئی۔ طنز و مزاح ازل سے ہی نسیم پونچھی کی طبع میں رچی بسی ہوئی معلوم ہوتی ہے ۔بس ذرا سے چھیڑ چھاڑ پر ہنسی کی دھار انکے ظرفِ طبع سے رسنا شروع ہوجاتی تھی۔
اس کتاب کے مختصر سے دیباچہ میں اقبال عظیم چودھری نے پتہ کی بات کی ہے۔
" ہاسا کدے بے ٹھاٹھا بھی ہو جائیں تاں بھی غنیمت ہوئیں۔ کیوں جے اس جنس کو اس بوتھیا وا زمانہ ما قحط پے گیو ہے۔ لوک ہر الا بلا نا گھر، وٹھیا وی متھا نال اپنے در ہی دھروئیں۔ بھانویں واہ نحوست ہی کیوں نہ ہوئے۔فِر کدے کسے ناں سچّا جئیا ہاسا نصیب ہوجائیں تے یقیناً دل کی اوہلیاں گُٹھّاں ما بجلی کو لشکارو مار جائے"
اقبال عظیم چودھری
"ہنسی کبھی بے وقار بھی ہوجائے تب بھی غنیمت ہوتی ہے۔ کیونکہ اس نک چڑھے زمانہ میں اس جنس کا قحط پڑ گیا ہے۔ لوگ ہر ایری غیری بلا کو تیوری چڑھا کر اپنی طرف کھینچنے میں لگے رہتے ہیں اگر چہ وہ نحوست ہی کیوں نہ ہو۔ ایسے میں اگر کسی کو سچی ہنسی نصیب ہوجائے تو بالیقین دل کےتاریک گوشوں میں بجلی جگمگا اٹھتی ہے ۔"
ترجمہ از راقم
"
کھیچل" میں نسیم پونچھی کے کچھ مشہور انشائیے اور ڈائری کے صفحات شامل ہیں۔ کھیچل میں "جٹل" "ستّوں" داتی" "ریڈیو" سوٹی"منجو"
"چوہا" "ساٹک فٹیک" سنگی وغیرہ انشائیے گوجری انشائیہ نگاری کی عمدہ مثالیں ہیں ۔
جاری
جاری
Comments
Post a Comment