اصول ِعیادت

اصولِ عیادت
            عَنْ أَبِی ہُرَیْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَنْ عَادَ مَرِیضًا أَوْ زَارَ أَخًا لَہُ فِی اللَّہِ نَادَاہُ مُنَادٍ أَنْ طِبْتَ وَطَابَ مَمْشَاکَ وَتَبَوَّأْتَ مِنَ الجَنَّةِ مَنْزِلًا․ (رَوَاہُ الترمذی، کتاب البروالصلة، باب ماجاء فی زیارة الاخوان:۲۰۰۸)

            حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جوشخص کسی مریض کی عیادت کرے،یا کسی دینی بھائی سے ملاقات کرے،توآسمان سے ایک فرشتہ اعلان کرتاہے کہ تم نے اچھاکیا،تمہارا(عیادت وملاقات کے لیے) چلنا مبارک ہے اورتم نے(عیادت کرکے) جنت میں اپنے لیے ٹھکانہ بنالیا۔

     عیادت، بیمار پرسی یا تیمارداری ایسا عمل ہے جو کہ سنت بھی ہے اور حدیث پاک میں اس کے بہت سارے فضاٸیل اور اصول بھی بتائے گٸے ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں ان اصولوں کا خیال نہ رکھ کر ہم کہیں نہ کہیں بیمار کو مزید تکلیف میں دھکیل رہے ہوتے ہیں۔ اس لٸے بعض نکات پیشِ خدمت ہیں۔
  ١۔عیادت کے لٸے کبھی بھی صبح سویرے نہیں جایا کرو کیونکہ مریضوں کو بالعموم بیماری کے سبب رات بھر یا کم سے کم رات کے پہلے حصے میں نیند نہیں آتی اور یہ وقت ان کے آرام کا ہوتا ہے۔
٢۔ مریض کو فون کے ذریعے اگر خیریت پوچھنی ہے تو اس میں بھی اوقات کا خیال رکھا جاٸے۔
٣۔مریض کے سامنے اپنی، اس کے اہل و عیال یا کسی بھی قسم کے رنج و پریشانی کی بات نہ کریں چونکہ اس سے مریض کی بیماری اور پریشانی میں اضافہ ہوتا ہے۔
٤۔مریض کی حوصلہ افزاٸی کریں۔ اسے صحت یاب ہونے کی یقين دہانی کرائيں ، اس کے لٸے دعا کریں اور مریض سے اپنے لٸے بھی دعا کرواٸیں۔
٥۔مریض کے ساتھ بیماری کے فضاٸل، دلچسپ واقعات اور ہنسی مزاح کی باتيں کریں جیسا کہ پہلے زمانے میں کتاب پڑھنے کا رواج تھا۔
٦۔مریض کے پاس اتنی ہی دیر کے لٸے رکیں جتنا کہ میض، اس کے اہلِ خانہ اور ڈاکٹرز وغیرہ کے لٸے مناسب ہو۔
          مزید عیادت کے اصول اور فضاٸیل کے لٸے حدیث پاک کا مطالعہ کریں۔ 
                                    راقم
                                     ناظم پونچھی

Comments

Popular posts from this blog

گجراں کی زات

گوجرہ تخلیقات