قدرتی آفات اور ہماری زمے داریاں از ناظم پونچھی
قدرتی آفات اور ہماری ذمہ داریاں
قدرتی آفات انسان کے بس میں نہیں ہوتیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی ہوتی ہیں اور بعض اوقات ہماری اپنی کوتاہیوں اور غفلتوں کا نتیجہ بھی۔ زلزلے، سیلاب، خشک سالی اور طوفان جیسی آفات دنیا کے مختلف حصوں میں آتی رہتی ہیں۔ ان آفات کو مکمل طور پر روکنا ممکن نہیں لیکن اگر ہم ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تو ان کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
سیلاب ایک بڑی آفت ہے۔ برف پگھلنے یا بارش کی شدت کے بعد پانی حد سے بڑھ جانے سے بستیاں ڈوب جاتی ہیں۔ اکثر یہ نقصان ہماری اپنی لاپرواہی سے ہوتا ہےکیونکہ ہم ندی نالوں میں کچرا ڈالتے ہیں، پانی کے بہاؤ کے راستے روک دیتے ہیں یا پھر ان کے بہاؤ کو غیر مناسب جگہوں کی طرف موڑ دیتے ہیں ۔ اگر ہم صفائی رکھیں اور پانی کے راستے کھلے رکھیں تو نقصان کم ہو سکتا ہے۔
آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مکانات کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے دوسرا یہ کہ مکانات اور راستوں کی پختگی نے بھی قدرتی نظام میں تبدیلی لائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اب بارش کے سبب بڑھتے ہوئے پانی کے نکاس کے عمل میں خاطر خواہ تبدیلیاں لائیں ۔ مثلاً نالیوں کی تعداد میں اضافہ اور پہلے سے تیار کردہ نالیوں کی صفائی اور گہرائی وغیرہ ۔
سڑکیں جو کہ آج ہمارے لئے نہایت اہم ہیں ان کو بناتے وقت بھی سنجیدگی سے کام لینا چاہیے ۔ مثلاً سڑکوں کا سروے مناسب طریقے سے ہو اور جہاں سے بھی مٹی یا پہاڑی کو کاٹ کر سڑک بنائی جائے وہاں فوراً نالی اور حفاظتی دیوار کا اہتمام کیا جائے ۔
بیت الخلاء کے لئے بنائے جانے والے گڑھوں کو مکمل طور پر پختہ بنایا جائے تاکہ اس کا پانی مٹی کو کمزور بنا کر اسے نہ بہائے۔
ندی نالے ہماری زمین کی زینت اور پانی کا قیمتی ذریعہ ہیں۔ ان میں فضلہ پھینکنا یا زہریلا مواد ڈالنا نہ صرف ماحول کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ جانوروں اور انسانوں کے لیے بھی خطرناک ہے
اسی طرح خشک سالی بھی ایک بڑی مصیبت ہے۔ پانی کی کمی فصلوں کو برباد کر دیتی ہے اور لوگ بھوک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ ہم پانی کے استعمال میں کفایت شعاری سے کام لیں، بارش کے پانی کو محفوظ کریں اور زیادہ سے زیادہ درخت لگائیں تاکہ بارش کے امکانات بڑھیں۔
ماحول کی صفائی بھی ہماری اہم ذمہ داری ہے۔ کوڑا کرکٹ جگہ جگہ پھینکنے، پلاسٹک کے بے جا استعمال اور نالیوں کو بند کرنے سے بیماریاں پھیلتی ہیں اور بارش کے موسم میں پانی جمع ہو جاتا ہے۔ ہمیں نالیوں کو صاف رکھنا چاہیے اور کوڑا کرکٹ مخصوص جگہوں پر پھینکنا چاہیے۔
کوڑا کرکٹ کو کھپانے کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر گھر کے پاس ایک گڑھا بنایا جائے جس میں گھر سے نکلنے والے کوڑا کرکٹ کو ڈالا جائے ۔
مکانوں کی تعمیر میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ غیر محفوظ یا غیر قانونی تعمیرات پانی کے بہاؤ کو روکتی ہیں اور خود مکینوں کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ مکانات ہمیشہ مضبوط، پائیدار اور کھلی جگہ پر بنائے جائیں۔ مکانات کے گردونواح میں پانی کے بہاؤ کے لئے جگہ چھوڑ دیں اور مکانات کی بنیاد میں مضبوطی، گہرائی اور اونچائی کا خیال رکھیں ۔
المختصر یہ کہ قدرتی آفات کو ہم ختم تو نہیں کر سکتے مگر ان کے نقصانات کو کم ضرور کر سکتے ہیں۔ اگر ہم پانی کی حفاظت کریں، ماحول کو صاف رکھیں، نالیوں اور ندی نالوں کی صفائی وغیرہ کاخیال رکھیں اور مکانات محفوظ طریقے سے تعمیر کریں تو ایک محفوظ، صحت مند اور خوشحال معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہ ہماری قومی اور انفرادی ذمہ داری ہے کہ ہم قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے سنجیدگی سے اقدامات کریں۔
ناظم پونچھی
nazemchoudhary84@gmail.com
Comments
Post a Comment